کراچی(رفیق مانگٹ)جین زی:یورپ سے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک احتجاجی لہر70 ممالک میں عوامی بے چینی،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کلیدی اوزار،پارلیمنٹس میں 2.8 فیصد نوجوان، جنریشن زی کی سیاسی قوت، حکومتوں کا خاتمہ، پالیسیوں میں تبدیلی، اور مستقبل کے سیاسی نظاموں پر دباؤ،یورپی تھنک ٹینک یورپی ڈیموکریسی حب کی رپورٹ کے مطابق 2025 کو عالمی احتجاج کا سال قرار دیا گیا، جہاں 70 سے زائد ممالک میں کسی نہ کسی نوعیت کی عوامی بے چینی ریکارڈ ہوئی۔ یہ احتجاج محض وقتی ردِعمل نہیں رہے بلکہ 2026 تک کئی تحریکیں جاری یا دوبارہ ابھریں۔ نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، عالمی آبادی کا 52 فیصد 30 سال سے کم عمر ہے، جبکہ عالمی پارلیمنٹس میں صرف 2.8 فیصد ارکان اس عمر گروپ میں آتے ہیں۔نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، عالمی آبادی کا 52 فیصد 30 سال سے کم عمر ہے، جبکہ عالمی پارلیمنٹس میں صرف 2.8 فیصد ارکان اس عمر گروپ میں آتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یوکرین اور غزہ کی جنگوں، بڑھتی معاشی ناہمواری اور حکومتی احتساب کی کمی بڑے محرکات رہے، جبکہ کئی کیسز میں احتجاجی تحریکوں نے ریاستی پالیسیوں اور سیاسی نظام پر براہِ راست دباؤ ڈالا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ 2025–26 کی احتجاجی لہر میں ایک نمایاں رجحان جین زی کی قیادت ہے، جو یورپ سے لے کر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک پھیلی ہوئی ہے۔