کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان نے موجودہ نظام مکمل ناکام ہوچکا ہے، پاکستان اور بالخصوص سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے، ہفتے کو مرکز بہادر آباد میں پر ہجوم پریس کانفرنس میں سنیئر رہنما وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ کی سیاست کرلی، ترمیم بھی پیش کردی، اب ہم سڑکوں پر آکربات کریں گے، سارے آئینی طریقہ کار اپنائیں گے اور اس ملک میں اختیارات کو نچلی سطح لیجانے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی حکومت کراچی کو پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے نہیں دے رہی، لاہور آج کراچی سے 50 سال آگے چلا گیا ہے، لاہور بھی تو پاکستان کا حصہ ہے، ہمیں خوشی ہے کہ لاہور آگے چلا گیا لیکن سندھ میں لاقانونیت عروج پر ہے، دنیا چاند پر جا رہی ہے اور ہمارے بچے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسرے شہروں میں ائیر ایمبولینس بن رہی ہیں جبکہ ہمارے ہاں سائیکل ایمبولنس متعارف کرائی جا رہی ہے،18ویں ترمیم اپنی اصل حالت میں لاگو ہی نہیں ہوئی، سندھ حکومت کو گزشتہ 18 سالوں میں ملنے والے 22 ہزار ارب روپے میں سے کراچی کو صرف 680 ارب روپے (3 فیصد سے بھی کم) د ئیے گئے، جبکہ اس رقم کا 90 فیصد سے زائد خود کراچی نے کما کر دیا، 2010 سے قبل والا فارمولا برقرار رہتا تو کراچی کو اب تک 2 ہزار ارب (2 ٹریلین) روپے مل چکے ہوتے ، پاکستان کو معاشی دلدل سے آئی ایم ایف نہیں بلکہ صرف کراچی نکال سکتا ہے۔