حیدرآباد(بیورو رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہم صوبے کے مطالبے سے دستبردا رنہیں ہورہے ہیں ، صوبہ متروکہ سندھ اور تبادلے کی زمین پر بنے گا ، سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی نے لسانی بنیادوں پر کی ۔ حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے پیپلزپارٹی کی حکومت کی بیڈ گورننس اور لوٹ مار کیخلاف لبرٹی چوک سے ایک بہت بڑی ریلی جس کی قیادت ایم کیوایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول نے کی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں ایم کیوایم کے کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی کوہ نور چوک پر پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرگئی جہاں جلسے سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی، زونل آرگنائزر ظفر صدیقی، اراکین صوبائی اسمبلی ناصر قریشی، صابر قائم خانی، راشد خان اور دیگر نے خطاب کیا۔ ایم کیوایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم پاکستان کی تمام قومیتوں کو برابری کے حقوق دلانے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ، ہم نے جعلی الیکشن کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے سندھ کو دیہی اور شہری بنیادوں پر نہیں بلکہ لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا ہے ، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس طرح تقسیم ہوئی کہ وزیراعلیٰ سندھ ہوگا تو گورنر مہاجر ہوگا لیکن شہری اکثریتی پارٹی مہاجر کو گورنر شپ نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم حکومت، ریاست اور حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ ہماری صحیح مردم شماری کی جائے، صحیح گنے جانا ہمارا حق ہے ، دوبارہ مردم شماری کرائیں اور ہمیں ہمارا حق دیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے بجٹ کا 97فیصد کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ دیتے ہیں ، سندھ میں دو طبقے ہیں ایک وہ ہے جو سوفیصد سندھ کو پالتا ہے اور ایک وہ طبقہ ہے جو صفر ٹیکس دے کر سوفیصد کا مالک بنا ہو اہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے شہری علاقے اس وقت 65فیصد ہیں یہ علاقے لسانی نہیں بلکہ پورا پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی اور حیدرآباد چلتا ہے تو پاکستان پالتا ہے۔ ہم اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھیک اور خیرات نہیں مانگیں گے اور نہ ہی صوبے کے مطالبے سے دستبردار ہوں گے ، صوبہ متروکہ سندھ کی زمین پر بنے گا ، ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور اس کو خوشحال بنانے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔