• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلگت بلتستان اور سندھ کے درمیان ترقیاتی تعاون کا آغاز

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) گلگت بلتستان اور سندھ کے درمیان ترقیاتی تعاون کا آغاز،سندھ اور گلگت بلتستان کے درمیان بین الصوبائی تعاون کے فروغ کے لئے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین کی زیر صدارت ورچوئل اجلاس، سندھ کے ریونیو وصولی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر نو کے تجربات شیئر کئے گئے ۔اجلاس میں گلگت بلتستان حکومت کو جدید ریونیو اتھارٹی کے قیام کے ذریعے اپنے ذرائع سے ریونیو وصولی بڑھانے، پی پی پی منصوبوں کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی فراہمی تیز کرنے اور سندھ کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ سیلاب سے محفوظ گھروں کے پروگرام کو گلگت بلتستان میں بھی اپنانے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے تزویراتی رہنمائی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ابتدا میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے انہیں تین اہم شعبوں میں گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ اور مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ گھروں کی تعمیر، پی پی پی منصوبوں بالخصوص بجلی کی پیداوار اور سیاحت کے شعبوں کا فروغ، اور سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) کی طرز پر ریونیو اتھارٹی کا قیام شامل ہے۔مراد شاہ نے کہا، "گلگت بلتستان میں سیاحت، پن بجلی اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل گورننس اور جدید مالیاتی ماڈلز کے ذریعے اس صلاحیت کو پائیدار معاشی ترقی اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔"وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس سے اجلاس میں شرکت کی، ان کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، وزیر اعلیٰ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سرمایہ کاری کے لئے معاون خصوصی قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ واصف میمن، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد زمن اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد شیخ بھی موجود تھے۔
اہم خبریں سے مزید