• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر، ن لیگ 9 نشستوں کے ساتھ فاتح، بلاول برس پڑے، دھاندلی کا الزام، عوامی فیصلہ تسلیم کریں، مریم نواز

مظفرآباد (نیوز ایجنسیاں، جنگ نیوز) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے تمام 13 حلقوں کے مکمل غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آگئے ، انتخابات میں ن لیگ 9 نشستوں کیساتھ فاتح رہی اور 4 نشستوں کیساتھ پیپلزپارٹی دوسرے نمبر پر رہی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری انتخابی نتائج پر برس پڑے، انہوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، تشدد اور عوامی مینڈیٹ پر اثرانداز ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، مظفرآباد میں کارکنوں اور عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہےکہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا ن لیگ کا مفاد،ریاست کا ہر فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے مفاد کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بلاول کے الزامات پر اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ عوامی فیصلہ تسلیم کریں، اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انتخابات کا فیصلہ صرف عوام کرتے ہیں، ان کے مطابق جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے،شکست کے بعد بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی، بیانیے اور عوامی خدمت پر توجہ دینی چاہیے،انہوں نے یاد دلایا کہ جب گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تھی تو مسلم لیگ (ن) نے نتائج کو قبول کیا تھا، مگر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر دھاندلی کے الزامات لگانا مناسب طرزِ عمل نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے ۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ قومی مفاد میں ریاست اور حکومت کے ساتھ کھڑی رہی ہے، تاہم کسی جماعت کے سیاسی مفاد کے لیے حمایت نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات دھاندلی کے لئے کرائے جا رہے ہیں اور ریاست کا ہر فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے مفاد کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقوں میں عوامی مینڈیٹ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا، تشدد کے واقعات پیش آئے اور ایک کارکن قتل ہوا، جن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات شفاف تھے تو پھر پولنگ اسٹیشنوں پر حملوں اور بدامنی کے واقعات کیوں رونما ہوئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میرپور، کوٹلی اور دیگر علاقوں کے عوام نے مشکل حالات کے باوجود پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔

اہم خبریں سے مزید