امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) نے چاند پر ہیومنائیڈ (انسان نما) روبوٹس کی مدد سے خودکار فیکٹری قائم کرنے کا ایک پُرعزم منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی آبادکاری کی راہ ہموار کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق خلا بازوں کی آمد سے پہلے ہی انسان نما روبوٹس تعمیراتی اور پیداواری کام انجام دیں گے، تاکہ چاند جیسے سخت اور دشوار ماحول میں انسانی محنت پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔
اس خودکار فیکٹری میں ہیومنائیڈ روبوٹس بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، مختلف آلات کی تنصیب، سامان کی منتقلی اور چاند پر دستیاب قدرتی وسائل کی پروسیسنگ جیسے روزمرہ کے کام سرانجام دیں گے۔
اسپیس ایکس کا طویل مدتی ہدف چاند پر موجود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے درکار پرزے اور دیگر ضروری سامان وہیں تیار کرنا ہے، تاکہ زمین سے مہنگے راکٹ لانچز کے ذریعے سامان بھیجنے کی ضرورت کم ہو سکے۔
کمپنی کے مطابق یہ روبوٹس مستقبل میں ایک ایسی خودکفیل قمری بیس کی بنیاد رکھنے میں مدد دیں گے، جہاں سائنسی تحقیق اور بعد ازاں مستقل انسانی رہائش ممکن ہو سکے۔ تعمیراتی اور صنعتی کاموں کو خودکار بنانے سے ناصرف خلا بازوں کی حفاظت بہتر ہوگی بلکہ چاند پر سرگرمیوں کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
یہ منصوبہ اسپیس ایکس کے اس وسیع وژن کا حصہ ہے جس کے تحت کمپنی اسٹارشپ (Starship) خلائی جہاز اور جدید روبوٹکس کی مدد سے چاند اور بعد ازاں مریخ کی تیز رفتار اور پائیدار دریافت کو ممکن بنانا چاہتی ہے۔
اس سے قبل بھی اسپیس ایکس چاند اور مریخ پر تعمیراتی کاموں کے لیے ہیومنائیڈ روبوٹس استعمال کرنے اور بعد ازاں بڑی تعداد میں خلا باز بھیجنے کے منصوبوں کا عندیہ دے چکی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ چاند پر مجوزہ خودکار فیکٹری مستقبل میں مریخ پر استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کی آزمائش کے لیے بھی ایک اہم تجربہ گاہ ثابت ہوگی، جہاں اسپیس ایکس آئندہ برسوں میں ایک خودکفیل انسانی کالونی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔