صاحبو! آج کا خاکہ بہت پُراسرار ہے۔ آخری سطر تک پڑھیں گےتو اندازہ ہوگا کہ ہمارا زمانہ کیسے کیسے تحیّر انگیز، حیرت ناک اور حیران کُن لوگوں کو بھی خُود میں سموئے ہوئے ہے۔ ابتدا ہی میں تین اشعار پڑھ لیجے کہ آپ کے دل کا حال بھی میرے جیسا ہوجائے۔ پھر اکٹھے مل کر آج کی کہانی کے سفر پر نکلیں گے۔ ؎
تم آئے ہو تمہیں بھی آزما کر دیکھ لیتا ہوں
تمہارے ساتھ بھی کچھ دُور جا کر دیکھ لیتا ہوں
ہوائیں جن کی اندھی کھڑکیوں پر سر پٹکتی ہیں
میں اُن کمروں میں پھر شمعیں جلا کر دیکھ لیتا ہوں
عجب کیا اس قرینے سے کوئی صُورت نکل آئے
تِری باتوں کو خوابوں سے مِلا کر دیکھ لیتا ہوں
سُنا تو تھا کہ لاہور میں کسی پُرماجرا زمانے میں ایک پُراسرار ادبی تکون ہُوا کرتی تھی۔ ناصر کاظمی، اسلم انصاری اور احمد مشتاق۔ یہ تکون میر کے تیر کھا کر اکٹھی ہوئی۔ سو، لہجوں میں وہی میرتقی والا دھیما پن۔ وہی اَن کہی میں بات پوری کہنے والی ادا۔ یہ دبستانِ لاہور، داستانِ اُردو اور دوستانِ غزل کا خواب ناک زمانہ تھا۔
کہیں ادبی بیٹھک میں بھاپ کے مرغولے اُڑاتی چائے اور سگریٹ کے دھویں کےعین بیچوں بیچ میل ملاقات، کہیں ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ یعنی مال روڈ پر رات رات بھر آوارہ گردی، کہیں ریڈیو پاکستان میں شعری مُباحث اور گیت نگاری، کہیں پاکستان ٹیلی ویژن کی قدیم عمارت میں مشاعرے، کہیں کوہ قاف کی پریوں کے قصّے اور کہیں ’’عین شین قاف‘‘ یعنی عشق کی چلتی پھرتی اِٹھلاتی بل کھاتی کہانیاں۔
اس تکون میں سے دو لوگ تو چُپکے چُپکے عدم آباد روانہ ہوئے یعنی وہ ناصر کہ جو نئے کپڑے بدل کرسوچتا تھا کہ جاؤں کہاں؟ اور بال بنا کرسوچتا تھا کہ کس کے لیے؟ دوسرا وہ اسلم انصاری کہ جس کی زبانی گوتم کا آخری وعظ ہم تک پہنچا اور جو یہ کہتےکہتےرخصت ہوا کہ مِرے عزیزو! تمام دُکھ ہے۔ پیچھے بچا اس تکون کا تیسرا کونا۔ وہ کونا جو نہ نوکیلا ہے، نہ تیکھا بس خاموشی، تنہائی اور محویت کے دائروں میں لپٹا احمد مشتاق ہے۔ خاکے کا آغاز بھی ہم نے انہی کے تین اشعار سے کیا۔
احمد کب کا وہ لاہور چھوڑ چُکے ہیں کہ جس کی ہوائیں آج بھی اُن کی اور اُن کے دوستوں ناصر کاظمی اوراسلم انصاری کی یادوں کو خوشبو بنائے کبھی مال روڈ پر جاتی ہیں، کبھی لارنس گارڈن، کبھی اندرون شہر کی نیم تاریک گلیوں میں کسی تھڑے پر تھم کر بیٹھ جاتی ہیں تو کبھی کرشن نگر کی کسی مُنّی سی بیٹھک کی کھڑکی سے گلی میں جھانکتی ہیں۔
اگرآپ مال روڈ، لاہور پرواقع ادبی بیٹھک سے چائے کا ایک کپ پی کر نکلیں تو تیرہ ہزار ایک سوسینتالیس کلومیٹر کا فاصلہ طَے کر کے ہیوسٹن، امریکا کے خوابیدہ و خاموش علاقے میں واقع اُس چھوٹے سے گھر تک پہنچیں گے، جہاں آج کل احمد مشتاق رہتے ہیں۔ ناچیز امریکا کے متعدد ’’مُشاعراتی دورے‘‘ کرچُکا ہے۔ امریکا کا چپّاچپّا چھان مارنے کے باوجود ایک خواہش جو ابتدائی چند دَوروں میں پوری نہیں ہو سکی، وہ احمد مُشتاق سے ملاقات تھی۔
مگر ملاقات کا قصّہ بہت یادگار ہے۔ میرا خیال ہے، چوتھے یا پانچویں دورے کے دوران ہیوسٹن میں زیادہ دورانیہ گزارنے کا موقع ملا۔ ہیوسٹن کو ناچیز نے’’عیش آباد‘‘ کا اسمِ محبّت انگیز دے رکھا ہے،کیوں کہ وہاں برادرِبزرگ، ہم دمِ مہرباں اور محبّتی میزباں عنایت اشرف عیش رہائش پذیر ہیں۔ عیش بھائی یقیناً انسان کے رُوپ میں فرشتہ ہیں کہ بغیرنام، پتا پوچھے اجنبی لوگوں کی مدد کے لیے بھی نکل پڑتے ہیں اور گھر سے نکلتے وقت فریج سے کھانےکا پیکٹ بنا کرنکلتے ہیں تاکہ ہیوسٹن کے گلی کُوچوں میں کوئی بےگھر مفلس نظر آجائے تو اُسے تھما دیں۔
کھانے کے ساتھ کولڈ ڈرنک Refill کرنے کی اجازت ہو تو ریستوران سے نکلتے وقت ایک بڑا سا آخری گلاس بھرلیتے ہیں تاکہ باہر سڑک پر کسی فقیر کو دے سکیں۔ پاکستان سے آئے کئی طالب علموں اور مسافروں کو اپنےگھر مہینوں رکھتے ہیں تاوقتیکہ اُن کی ملازمت کا بندوبست ہو جائے۔ خیر، بات ہورہی تھی، ہیوسٹن میں ملاقات کی۔ ہمیں گزشتہ دوروں میں بتایا گیا تھاکہ احمد مشتاق کسی سے نہیں ملتے، تنہائی میں ہی رہتے ہیں اور یہ جان کر ہم نےعیش بھائی کو احمد مشتاق ہی کا شعر سُنایا تھا ؎
کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کی
کوئی کرتا ہے حفاظت مِری تنہائی کی
ادبِ عالیہ خصوصاً ارفع شاعری میں لفظ کی کیفیت یک سربدل دینے اورمعانی کی کہانی میں انقلاب برپا کر ڈالنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جیسا کہ احمد مشتاق کے مذکورہ بالا شعر میں ہے۔ دیکھیے کہ تنہائی کو کس طرح ایک ایسی نعمتِ بے مثل کا رُتبہ عطا کردیا گیا کہ جس کی حفاظت کوئی اَن جانا، اَن دیکھا مقدس سبب کرتا ہے۔ تنہائی کی یہ تقدیس، اُداسی کی یہ پاکیزگی اور خاموشی کا یہ احترام مجھےاحمد مشتاق ہی کے ہاں ملا۔
پھر ایک روز ہُوا یُوں کہ صُبح سویرےہمارے ساتھ سفر کرنے والے شاعر کو سوتا چھوڑ کرچُپکے چُپکےعیش بھائی ہمیں لے کر نکل لیے۔ یہ بھی نہیں بتایا کہ کہاں لے کر جا رہے ہیں۔ تھوڑی دُوراور تھوڑی دیر ہائی وے پر سفر کر چُکنے کے بعد سڑک ایک خُوب صُورت مگر خاموش علاقے کی طرف مُڑ گئی۔ دو چار مزید موڑ کاٹنے کے بعد جب گاڑی ایک گھر کے سامنے رُکی تو عیش بھائی نے مجھے بتایا کہ یہ احمد مشتاق کا گھر ہے۔ تب میری جو کیفیت ہوئی، لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، اِس لیے مَیں کوشش بھی نہیں کروں گا۔
ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھے اور تھوڑی ہی دیر بعد نحیف مگر جان دار اور ضعیف مگر شان دار احمد مشتاق سامنےتھے۔ کُشادہ ماتھا، بہت ذہین آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ۔ وہ آکر پہلے تو چُپ چاپ اپنے ہاتھ تہہ کر کے اپنی ہی گود میں رکھ کربیٹھ گئے۔ پھر عیش بھائی نےتعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے۔ کمرے میں احمد مشتاق ہی احمد مشتاق بَھرے ہوئے تھے۔ عیش بھائی اور مَیں نےتو اُن کی موجودگی میں اپنا ہونا موقوف ہی کر دیا تھا۔
بعضے بعض شخصیت پورا شہر بن جاتی ہے۔ کافی دیر گفتگو جاری رہی۔ احمد مشتاق بہت دھیما بولتے ہیں، نہایت ہولے ہولے۔ کان لگا کر سُننا پڑتا ہے۔ مجھ کج مُج بیان، مبتدی، طالبِ علم کی مجال نہیں تھی کہ اُن کے سامنے شعر پیش کرتا مگر عیش بھائی کے اصرار اور پھر احمد صاحب کی حوصلہ افزائی کے باعث ہمت بندھی اور ڈرتے ڈرتے دو غزلیں پیش کیں۔ جب یہ شعر سُنایا ؎
کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
تو احمد مشتاق کہنے لگے کہ اس شعر کو موت زندہ رکھے گی۔ تب مجھے اس پُراسرار جُملے کی سمجھ نہیں آئی لیکن بعد ازاں جب بھارت میں عظیم اداکار دلیپ کمار فوت ہوئے تو دُور درشن پر یہ شعر بارہا چلا۔ عرفان خان پرلوک سدھارے تو یہ شعر پڑوسی مُلک کے اخباروں کی سُرخیوں میں تھا۔ میانی صاحب، واصف علی واصف کے مزار پرحاضری ہوئی تو متعدّد کتبوں پر نظرآیا۔ سچن ٹنڈولکر ریٹائر ہوئے تو پھر سے ٹویٹس کی صُورت وائرل ہوا۔ تب سمجھ آئی کہ احمد مشتاق کا تجزیہ کتنا دُوررس اور سوچ کتنی گہری تھی۔
اُسی ملاقات میں ہم نے احمد مشتاق صاحب سے خاص الخاص فرمائش کرکے اُن کی وہ غزل سُنی، جو مجھے بےحد پسند ہے۔ ویسے تو اُن کی تمام شاعری بالکل ناصر کاظمی کی طرح کیفیت میں تیز، تاثیرسے لب ریز اور بےحد دل آویز ہے۔
میری پسندیدہ ترین غزل وہ بالکل سیدھے سادے، سادہ، سہل، صاف اورسچّے سُچّے سُبھاؤ کےساتھ پڑھ رہے تھے اور مَیں سوچ رہا تھا کہ نابغۂ روزگار شخصیت کیسے مدح و ذم سے ماورا ہوجاتی ہے۔ نہ ستائش کی تمنّا، نہ صلے کی پروا۔ مَیں نے اور عیش بھائی نے حرف حرف پر داد دی۔ بنتی اس سے بھی کہیں زیادہ تھی۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ ؎
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اِسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے دروبام تِرے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں، کوئی کہیں رہتا ہے
روز ملنے پہ بھی لگتا ہے کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اُس کو لیکن
عُمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے
گزشتہ برس ہی کا واقعہ ہے کہ مَیں ایک بار پھر ہیوسٹن میں موجود تھا۔ تب احمد مشتاق سے ملاقات تو نہیں ہو پائی لیکن ہم عیش بھائی کے بڑے بھائی اور ہمارے یارِدل پذیر، شاعرِ ہیوسٹن عقیل اشرف کو سلام کرنے اُن کی ابدی آرام گاہ گئے، تو وہیں اشکوں کی جھڑی، فاتحہ کی لڑی اور خاموشی کی گھڑی میں عیش بھائی کو یاد آیا کہ احمد مشتاق کی زوجہ مرحومہ بھی آس پاس ہی دفن ہیں۔ سو، احمد صاحب کو فون کیا۔
اُن کی یادداشت میں اپنی شریکِ حیات کی آخری آرام گاہ کا ٹھیک ٹھیک پتا درج تھا۔ سو، اُنہوں نے بتا دیا کہ فلاں قطار میں فلاں نمبر پر ہیں اور ہم اُن کی رہنمائی کے مطابق ڈھونڈتے ڈھانڈتے فاتحہ خوانی کے لیے جاپہنچے۔ امریکا میں شہرِ خموشاں بھی اس قدر پُرسکون، آرام دہ اور شاعرانہ ہوتا ہے کہ مجھ ایسے شاعر کا تو دل چاہتا ہے کہ جہانِ فانی سےکُوچ کر کے وہیں دفن ہورہے، لیکن بہرحال اپنی مٹّی اپنی ہے، سو واپس تو یہیں آنا ہے۔
لاہور قیام کے دِنوں میں احمد مشتاق کرشن نگر میں رہا کرتے تھے۔ اُن دنوں کرشن نگر میں دو اور بھی نادرِ روزگار شخصیات موجود تھیں۔ کشور ناہید اور زاہد ڈار۔ ناصر کاظمی اپنی ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے لیے نکلتے تھے اور احمد مشتاق اپنی بینک کی نوکری کے لیے۔ دونوں اکٹھے ہی جاتے تھے۔ پاک ٹی ہاؤس میں بھی یہ جوڑی شام و سحَر اکٹھی نظر آتی۔
ناصر کی وفات کے بعد احمد مشتاق نے ناصر کے بیٹے باصر سلطان کاظمی کے ساتھ مل کر اپنے عزیز از جان دوست کے فن و شخصیت پر لکھے جانے والے یادگار مضامین کو ایک کتاب کی صُورت یک جا کیا، جس کا نام تھا ’’وہ ہجر کی رات کا ستارہ‘‘۔ میری رائے میں اس کتاب کو پڑھے بغیرآدمی کو مرنا نہیں چاہیے۔
احمد مشتاق بےپناہ گہرے اوراسلوب سازشاعر تو ہیں ہی، بہترین ترجمہ نگاربھی ہیں۔ اُنہوں نے انگریزی، فارسی اور پنجابی زبان کے اہم شعراء اور فِکشن نگاروں کی عالمی شہرت یافتہ شعری و نثری تخلیقات کو اُردو میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ایک انوکھا کام یہ کیا کہ کچھ رجحان ساز مصوروں پر لکھے گئے اہم مضامین کو بھی بزبانِ اُردوترجمہ کیا۔
تنوّع کا عالم ملاحظہ ہو کہ پرتگالی ادیب حوزے سارا ماگو کے ناول Blindness کا اُردو ترجمہ ’’اندھے لوگ‘‘ کے نام سے، میکسیکو کے ناول نگار حوان رلفو کے ناول Pedro Paramo کا ترجمہ ’’بنجر میدان‘‘ اور ایوان ترگنیف کے ناول Home of Gentry کا ترجمہ ’’آشیانہ‘‘ کےعنوان سے کیا۔ یہ تراجم اپنے اندر تخلیقاتِ اصل کا درجہ رکھتے ہیں اور کہیں کہیں تو طبع زاد بھی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ یاد رہے، نصف صدی سےزائد عرصے میں احمد مشتاق کےمختلف رسائل و جرائد میں چھپنے والے شعری و نثری تراجم ’’حدیثِ دیگراں‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہو چُکے ہیں۔
امرتسر میں پیدا ہونے والی احمد مشتاق تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آ گئے تھے اور لاہور کو اپنا ٹھکانہ بنالیا تھا، جہاں اُنہوں نے اپنی عُمر کا طویل حصّہ بسر کیا۔ ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ بینکنگ کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور لاہور میں چارٹرڈ بینک میں ملازمت کرتےرہے۔
ویسے تو اُنہوں نے جو لکھا، ارفع و اعلیٰ لکھا۔ گردِ مہتاب (شعری مجموعہ) اوراقِ خزانی (ریختہ فاؤنڈیشن کی جانب سے شائع کردہ کلام) کلیاتِ احمد مشتاق (تمام چاروں مجموعوں اور غزلوں کا مکمل مجموعہ، سویرا (مختلف ادبی شمارے جن کی ترتیب میں اُنہوں نے حصّہ لیا) اور محراب (ادبی جریدہ/شمارہ) یہ سب احمد مشتاق کی ارفع تخلیقات ہیں۔
اُن کی خاموشی، تنہا رہنے کی عادت، خُود میں سمٹے رہنے کی ادا اور نمودونمائش سے نفیر مجھے اُن کے علاوہ مشتاق احمد یوسفی میں بھی نظر آئیں کہ جن کو مرحوم لکھتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ شاید نادرِروزگار شخصیات کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ مدح وذم سے ماورا ہوجاتے ہیں۔
احمد مشتاق سے آپ لاکھ درخواست کیجے کہ وہ فلاں مشاعرے کی صدارت کرلیں، فلاں تنظیم ’’جشنِ احمد مشتاق‘‘ کرنا چاہتی ہے یا فلاں ٹیلی ویژن چینل اُن کا انٹرویو کرنا چاہتا ہے، وہ یہی کوشش کریں گے کہ کسی طرح وہ ان سب چیزوں سے جان چھڑوا لیں۔
نسلِ نو کو یہ وصف سیکھنا چاہیے کہ کیسے فن کو سہج سہج ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے اور کیوں سکوت میں پلے اشعار عمیق اور شوروغُل میں پِٹےپٹائے مصرعوں کی دُہرائی کارِ لاحاصل ہے۔ احمد مشتاق کی شعری کیفیت ایسی گہری ہے کہ انسان اُس میں ڈوب کر رہ جاتا ہے۔ اُن کا اپنا شعر ہے کہ ؎
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اِسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
اُن کے ہاں ناسٹیلجیا مرض بن کر نہیں، دوا بن کر آتا ہے۔ اُن کی اُداسی دل تو دھڑکاتی ہے، لیکن شور نہیں مچاتی۔ اُن کے آنسو بہہ کر بھی دکھائی نہیں دیتے اور اُن کی اَن کہی نہ کہتے ہوئے بھی سب کچھ کہہ جاتی ہے۔ پُرانی ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) کے بوڑھے درختوں سے لے کر کرشن نگر کے قدیمی مکانوں کی بُھربُھرا چُکی اینٹوں تک کسی سے بھی احمد مشتاق کا ذکر کیجے، سب آپ کو سرگوشی میں پوچھیں گے کہ وہی احمد مشتاق کہ جس کے اشعار کا ناصر کاظمی بھی دیوانہ تھا؟
وہی احمد مشتاق کہ جو یہاں سے تازہ غزل کا مصرعہ زیرِ لب گنگناتے ہوئے گزرتا تھا تو پرندے ہواؤں سے اور بادل آسمان سے داد دیا کرتے تھے؟ عین ممکن ہے کہ کوئی پُرانی دیوار، کوئی قدیم درخت آپ کو احمد مشتاق کی اُنہی غزلوں میں سے کوئی ایک سُنا بھی دے کہ فطرت کبھی اپنے نابغۂ روزگار چیدہ لوگوں کو بُھلایا نہیں کرتی۔ ؎
خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا
یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا
دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی
جس نے دیکھا ہی نہیں، اُس سے خفا کیا ہونا
تجھ سے دُوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت بُرا لگتا ہے تنہا ہونا
یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا
زندگی معرکۂ رُوح و بدن ہے مشتاقؔ
عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)