• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الخیر یونیورسٹی کے 11 ہزار طلبہ کی اسناد کیلئے ٹیسٹ کی شرط برقرار

کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک میں نئی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے معیارات مقرر کرنے کے اپنے قانونی اختیار کی متفقہ طور پر توثیق کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے واحد معیار مقرر کرنے والا ادارہ ہے، جبکہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن ان معیارات پر ایچ ای سی کے ساتھ مل کر عملدرآمد میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کمیشن نے الخیر یونیورسٹی آزاد کشمیر کے غیر مجاز کیمپسز اور الحاق شدہ کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً 11 ہزار 515 طلبہ کی ڈگریوں کو محض ریکارڈ کی تصدیق کی بنیاد پر تسلیم کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جامع ٹیسٹ کی شرط بھی برقرار رکھی ہے جبکہ ٹی ٹی ایس اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا ۔ یہ فیصلے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت 3 اگست کو اسلام آباد میں ہونے والے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 48ویں اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی نمائندوں سمیت کمیشن کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کے منٹس کے مطابق پنجاب اور سندھ حکومتوں نے نئی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے معیارات وضع یا تبدیل کرنے کے حوالے سے ایچ ای سی اور وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار پر سوالات اٹھائے تھے۔ معاملہ کمیشن کے سامنے آنے پر اس نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اعلیٰ تعلیم کے معیارات مقرر کرنا وفاقی قانون سازی کی فہرست کا حصہ ہے اور مشترکہ مفادات کونسل کے 44ویں اجلاس کے فیصلے کے تحت ایچ ای سی ملک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے واحد معیار مقرر کرنے والا ادارہ ہے، لہٰذا اسے نئی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام کے معیارات وضع اور ان میں ترمیم کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

اہم خبریں سے مزید