• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحقین کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر

پیرس( رضا چوہدری، نمائندہ جنگ ) پاکستان میں غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لئے قائم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) اپنی اہمیت کے باوجود ملک کی وسیع مستحق آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے تقریباً 20فیصد معاونت کے باوجود 26کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف ایک کروڑ سات لاکھ کے قریب مستحق افراد تک امداد کی رسائی، مجموعی آبادی کے تناظر میں آٹے میں نمک کے برابر قرار دی جا رہی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جس کو عالمی سطح پر سماجی تحفظ کے ایک مؤثر اور بہترین ماڈل کے طور پر سراہا جاتا رہا ہے، تاہم پاکستان میں اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث کم آمدنی والے خاندانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے مقابلے میں موجودہ امدادی دائرہ کار ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید