کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کو طبی سہولیات فراہم کرنے والے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی کو کے ایم سی کے سرفراز رفیقی شہید اسپتال کی دوسری منزل پر صرف 3کمروں اور 3ہالز میں منتقل کرنے کا انوکھا حکم نامہ جاری کر دیا ہے،میڈیکل بورڈز، فٹنس سرٹیفکیٹس، طبی قانونی معائنے اور مریضوں کی سہولیات متاثر ہونے کا خدشہ۔ محکمہ صحت سندھ کے 18 اگست 2026 کے خط کے مطابق کے ایم سی نے مذکورہ جگہ محکمہ صحت کو سروسز اسپتال کی منتقلی کے لیے الاٹ کردی ہے، جبکہ موجودہ سروسز اسپتال کی عمارت فوری طور پر سول اسپتال کراچی کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سروسز اسپتال کراچی ایک مکمل فعال اسپتال ہے جس میں سی ٹی اسکین، میموگرافی، ایکو کارڈیوگرافی، الٹراساؤنڈ، ایکسرے، مکمل لیبارٹری، اینستھیزیا و وینٹی لیٹر سپورٹ، آرتھوپیڈک سرجری کے لیے سی آرم، آنکھوں کے آپریشنز، ڈینٹل، اطفال، گائنی، فزیوتھراپی سمیت متعدد جدید سہولیات فراہم کرتا ہے جبکہ اسپتال میں چار آپریشن تھیٹرز، لیبر روم، مرد و خواتین میڈیکل و سرجیکل وارڈز، امراض اطفال وارڈ سمیت مختلف ان ڈور سہولیات بھی فعال ہیں۔ اسپتال کا میڈیکل و ری ایمبرسمنٹ سیکشن سندھ حکومت کے تقریباً 52 تا 54 محکموں کے ملازمین کے طبی اخراجات اور میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کیسز دیکھتا ہے، جبکہ خصوصی میڈیکل بورڈز، میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹس، طبی قانونی معائنے، سرکاری محکموں اور عدالتوں سے بھجوائے گئے کیسز کے طبی معائنے اور میڈیکل رپورٹس، ان ویلیڈیشن و فٹنس اسیسمنٹ اور معذوری کے سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے جاتے ہیں۔ ان سہولیات سے سندھ ہائی کورٹ کے ججز و عملہ، سندھ اسمبلی کے ارکان و عملہ اور گریڈ 1 سے 20/21 تک کے سرکاری افسران و ملازمین اور ان کے اہل خانہ مستفید ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سروسز اسپتال کے تحت سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹ، سندھ اسمبلی، وزیر اعلیٰ ہاؤس، نیو سندھ سیکریٹریٹ سمیت اہم سرکاری اداروں میں 10 سیٹلائٹ ڈسپنسریز بھی کام کر رہی ہیں، جو ملازمین کو ان کے دفاتر میں فوری اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ایسے میں اس وسیع نیٹ ورک اور روزانہ سینکڑوں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے والے مکمل فعال ادارے کو تین کمروں اور تین ہالز تک محدود کرنا طبی، انتظامی اور عوامی سہولیات کے شدید متاثر ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ موجودہ سروسز اسپتال ایک وسیع اراضی پر محیط ہے جبکہ مجوزہ منتقلی کے بعد تین کمروں اور تین ہالز میں اسپتال، دفتر سول سرجن، میڈیکل بورڈز، طبی قانونی خدمات، انتظامی امور، میڈیکل ریکارڈ اور دیگر سہولیات کو سمیٹنا ہوگا جس سے اسپتال کی طبی، انتظامی اور طبی قانونی خدمات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور سرکاری ملازمین و ان کے اہل خانہ کو علاج کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔