کراچی (سید محمد عسکری) سندھ کے وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ طلبہ کو اپنا کیریئر خود منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہئے، تعلیم محض روزگار اور پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھاتی ہے،میڈیکل اور انجینئرنگ کے علاوہ بھی کئی بہترین شعبے موجود، والدین اپنی خواہشات بچوں پر مسلط نہ کریں،بچوں کی دلچسپی اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔وہ بدھ کو ڈی ایچ اے صفاء یونیورسٹی میں معروف ماہر تعلیم اور کیریئر کونسلر سید عابدی کی کتاب “Understanding Career Counselling” کی تقریب رونمائی سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ تقریب رونمائی سے کتاب کے مصنف سید عابدی اور چانسلر گرین وچ یونیورسٹی ڈاکٹر سیما مغل نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی بریگیڈیئر (ر) روفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس، وائس چانسلر چانسلر سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی ڈاکٹر افضل الحق، ڈی جی بحریہ یونیورسٹی کراچی وائس ایڈمرل اطہر مختار، محمد مبین جمانی، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ ان کے بچپن میں والدین کی جانب سے عموماً بچوں کے سامنے صرف دو ہی راستے رکھے جاتے تھے کہ انہیں ڈاکٹر بننا ہے یا انجینئر۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے اندر ایک شاعر موجود تھا لیکن اس وقت کیریئر کے انتخاب میں اپنی مرضی شامل کرنے کا تصور نہیں تھا۔ میری دلچسپی تاریخ اور سماجی علوم میں تھی، اگر بچپن میں مجھ سے میری مرضی پوچھی جاتی تو شاید میں سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل نہ کرتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انسان کے اندر یہ احساس اور آگاہی ہونی چاہئے کہ اسے مستقبل میں کیا بننا ہے۔ آج میڈیکل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں جامعات بھر گئی ہیں حالانکہ ان کے علاوہ بھی کئی ایسے شعبے موجود ہیں جن میں نوجوان بہترین مستقبل بنا سکتے ہیں۔ اگر کسی بچے کی دلچسپی کسی دوسرے شعبے میں ہے تو والدین کو اسے اپنی پسند کے شعبے میں آگے بڑھنے دینا چاہئے۔ انہوں نے کیریئر کونسلنگ جیسے اہم موضوع پر کتاب تحریر کرنے پر سید عابدی کو مبارکباد پیش کی۔کتاب کے مصنف سید عابدی نے کہا کہ طلبہ کو اپنے مستقبل اور کیریئر کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔ اگر کوئی طالب علم بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے لئے کون سا ملک موزوں ہے، وہاں جانے اور ویزا حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے اور اس کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ضروریات کیا ہیں۔ درست معلومات اور بروقت رہنمائی طالب علم کو غلط فیصلوں سے بچا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم کو اپنی صلاحیت، دلچسپی اور قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے شعبے کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اگر کوئی طالب علم ریاضی میں اچھا نہیں ہے تو اسے محض دباؤ یا رجحان کے باعث ایسا پیشہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس میں ریاضی بنیادی ضرورت ہو۔ اسی طرح اگر کسی میں گفتگو اور ابلاغ کی مطلوبہ صلاحیت نہیں تو مارکیٹنگ جیسے شعبے میں آگے بڑھنا اس کے لئے مشکل ہوسکتا ہے، جبکہ انجینئرنگ کے لئے موزوں صلاحیت نہ رکھنے والے طالب علم کا اس شعبے کا انتخاب نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔