اقوامِ متّحدہ نے صاف پانی، مؤثر نکاسیٔ آب، قابلِ اعتماد توانائی اور پائےدار شہری زندگی کو ترقّی کے بنیادی ستون قرار دیا ہے، جب کہ صوبۂ سندھ کا دوسرا بڑا شہر، حیدرآباد مذکورہ بالا تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ پینے کے صاف پانی کی قلّت، گیس کی غیر یقینی فراہمی، بجلی کی طویل وغیر علانیہ لوڈ شیڈنگ، ٹوٹی پُھوٹی سڑکوں، نکاسیٔ آب کے غیرمعیاری نظام اور متعلقہ اداروں کی ناقص کارکردگی نے شہریوں کو ایک عذابِ مسلسل سے دوچار کر رکھا ہے۔
افسوس ناک اَمریہ ہے کہ یہ مسائل ایک مستقل بُحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں، جس کے صحتِ عامّہ، معاشی سرگرمیوں، شہری ماحول اور مستقبل میں ترقّی کے امکانات پرواضح منفی اثرات مرتّب ہورہے ہیں۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق حیدرآباد ڈویژن کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچُکی ہے، جب کہ ضلع حیدرآباد کی آبادی میں بھی گزشتہ مردم شماری کی نسبت نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم، شہری انفرااسٹرکچر آبادی میں اضافے کی رفتار کے مطابق ترقّی نہیں کرسکا۔
پانی کا بُحران اس وقت حیدرآباد کےشہریوں کا سب سےبڑا مسئلہ ہے۔ مختلف سرکاری اور میڈیا رپورٹس کے مطابق موسمِ گرما میں حیدرآباد میں پانی کی یومیہ طلب تقریباً 130ملین گیلن یومیہ تک پہنچ جاتی ہے، جب کہ فراہمی میں کمی، پمپنگ اسٹیشنز کی خرابی، بجلی کی طویل بندش، بوسیدہ پائپ لائنز، ناقص منصوبہ بندی اور متعلقہ اداروں کی انتظامی غفلت کے باعث شہری مسلسل پانی کی قلّت کا سامنا کررہے ہیں۔
حیدرآباد سٹی، لطیف آباد اور قاسم آباد کےکئی علاقے اس بُحران کی بدترین تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں کہیں مہینے میں صرف ایک بار (صرف ایک گھنٹے کے لیے) پانی آتا ہے، کہیں ہفتے میں صرف ایک مرتبہ سپلائی کھلتی ہےاور کہیں دو گھنٹے کی محدود فراہمی پورے علاقے کی ضرورت پوری کرنے سے قاصر رہتی ہے، جب کہ متعدد علاقے ایسے بھی ہیں کہ جہاں نلکوں میں پانی آنا گویا ایک بُھولی بسری یاد بن چُکا ہے اور جب کبھی ان علاقوں میں ایک یا دو گھنٹے کے لیے پانی فراہم بھی کیا جاتا ہے، تو اکثر اس کا رنگ، بُو اور معیار اس قدرخراب ہوتا ہے کہ شہری اِسے پینا تو درکنار، گھریلو استعمال کے لیے بھی موزوں نہیں سمجھتے۔ اسی سنگین صورتِ حال نے ایک متوازی معیشت کو جنم دیا ہے، جسے عام طور پر ’’ٹینکر مافیا‘‘کہاجاتا ہے۔
حیدرآباد میں ہزاروں خاندان اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے منہگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں، توبعض اپنی جمع پونجی خرچ کرکے بورنگ کرواتے ہیں تاکہ زندگی کا پہیا چلتا رہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان تمام اضافی اخراجات کےباوجود’’واسا‘‘ کے پانی کے بِلز ہر ماہ باقاعدگی سے شہریوں تک پہنچتے ہیں اور عوام اُنہیں ادا بھی کرتے ہیں، خواہ ان کے گھروں کے نلکوں میں پانی کی ایک بوند بھی نہ آئی ہو۔
کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ٹینکرز، بورنگ اور پانی کے بِلز کا یہ دہرا بوجھ اُن کے ماہانہ بجٹ بُری طرح متاثر کررہا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق، صحتِ عامہ اور ریاستی ذمّےداری کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے، پانی کی قلّت کا تعلق صرف واٹر سپلائی تک محدود نہیں، یہ بجلی کی فراہمی سے بھی براہِ راست مشروط ہے۔ حیدرآباد کےمتعدد پمپنگ اسٹیشنز بجلی پر انحصار کرتے ہیں اور جب طویل یا غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، تو پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ یوں ایک ادارے کی کم زوری دوسرے ادارے کی کارکردگی بھی متاثرکرتی ہے اور آخرکار نقصان صرف شہریوں کو اُٹھانا پڑتا ہے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO) سندھ کے کئی اضلاع کو بجلی فراہم کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے، جس کے صارفین کی تعداد تقریباً 12,72,699 ہے۔ گرچہ یہ ادارہ بجلی کی ترسیل و تقسیم کانظام جدید بنانے، لائن لاسزمیں کمی لانے اورصارفین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے مختلف ترقّیاتی منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ایک تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں۔
شدید گرمی ہو یا سرد موسم، دن ہو یا رات،غیرعلانیہ اورطویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ، کم وولٹیج، باربارٹرپنگ اوربجلی کی غیرمستحکم فراہمی معمول بن چُکی ہے۔ حیدرآباد سٹی، لطیف آباد، قاسم آباد اور متعدد دیہی علاقوں میں روزانہ دس سے بارہ گھنٹے جب کہ بعض مقامات پر پندرہ گھنٹے تک بجلی کی بندش کی شکایات عام ہیں۔
اس صورتِ حال نے گھریلو زندگی کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں، صنعتی پیداوار، تعلیمی اداروں، اسپتالوں، چھوٹے کاروباروں اور پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے، کیوں کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث واٹرسپلائی اسکیمز بھی مفلوج ہو جاتی ہیں، جس سے پہلے ہی پانی کے بحران کے شکار شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔
متعدد شہریوں کاکہنا ہے کہ اگر کسی علاقے میں ٹرانسفارمر یا پی ایم ٹی (Pole Mounted Transformer) خراب ہوجائے، تو اس کی مرمّت یا تبدیلی اُس وقت تک نہیں ہوتی،جب تک متاثرہ علاقے کے مکین اپنی جیب سے چندہ جمع کرکے اخراجات پورے نہ کریں۔ گرچہ اس دعوے کی غیرجانب دارانہ تصدیق متعلقہ اداروں کی ذمّےداری ہے، تاہم یہ شکایت اس قدرعام ہے کہ عوام اسے ایک تلخ حقیقت کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے،جب صارفین سے بجلی کے بِلز میں مرمّت، دیکھ بھال اور دیگر اخراجات کی مد میں باقاعدہ وصولیاں کی جاتی ہیں، تو پھر بنیادی انفرااسٹرکچر کی مرمّت کی ذمّےداری عوام پر کیوں آن پڑتی ہے؟ دیہی علاقوں کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بتائی جاتی ہے۔ کئی دیہات میں ٹرانسفارمر خراب ہونے کے بعد ہفتوں بلکہ بعض اوقات دو دو ماہ تک بجلی بحال نہیں ہو پاتی۔
معاشی طور پر کم زور آبادیوں کے لیے چندہ جمع کرکے نئے ٹرانسفارمر یا مرمّت کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں وہ طویل عرصے تک بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں، شکایات کے اندراج کے لیے متعارف کروائی گئی ’’روشن پاکستان ایپ‘‘ بھی عوام کی توقّعات پر پوری اترتی دکھائی نہیں دیتی۔
متعدد صارفین کے مطابق شکایت درج ہونے کے باوجود کارروائی میں غیرضروری تاخیر کی جاتی ہے اور بعض اوقات مسئلہ مقامی سطح پر کسی اورذریعے سے حل ہونے کے بعد ایپ پر کارروائی کی اطلاع موصول ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف شکایتی نظام کی فعالیت پر سوالات اُٹھتے ہیں بلکہ یہ تاثربھی مضبوط ہوتا ہےکہ جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے باوجود اس کے ثمرات، فوائد عوام تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پا رہے۔
صورتِ حال اُس وقت مزید سنگین ہوجاتی ہے،جب انسانی جانوں کے تحفّظ کا معاملہ درپیش ہو۔ اگر کسی رہائشی علاقے میں نصب پی ایم ٹی میں آگ بھڑک اُٹھے، چنگاریاں نکل رہی ہوں یا شارٹ سرکٹ کا خطرہ پیدا ہوجائے، تو شہریوں کے مطابق بارہا اطلاع دینے کے باوجود متعلقہ عملہ کئی کئی گھنٹے حتیٰ کہ بارہ سے چودہ گھنٹے تک جائے وقوع پر نہیں پہنچتا۔ اس دوران نہ صرف پورا علاقہ بجلی سے محروم رہتا ہے بلکہ آگ پھیلنے، قیمتی املاک کے نقصان اور انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق رہتے ہیں۔
ایسے واقعات اس اَمر کے متقاضی ہیں کہ ہنگامی شکایات کے لیے مؤثر اور فوری ریسپانس سسٹم قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے بروقت بچا جا سکے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی شہری سہولتوں کی مسلسل عدم فراہی کسی بھی شہر کی مقامی معیشت پر براہِ راست اثرات مرتّب کرتی ہے اور چھوٹے تاجر، ورکشاپس، بیکریز، ریستوران، کلینکس، تعلیمی ادارے اور گھریلو صنعتیں سب سے پہلے ان مسائل کا شکار بنتی ہیں۔
بجلی کی بندش سے کاروباری اوقات کم ہوجاتے ہیں، پانی کی عدم دست یابی سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، جب کہ گیس کی قلّت متبادل ایندھن کے اخراجات میں اضافہ کر دیتی ہے۔ یوں بتدریج ایک معاشی بُحران جنم لینے لگتا ہے۔
افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ یہ مسائل آج پیدا نہیں ہوئے بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے شہری، تاجر تنظیمیں، سماجی کارکن، منتخب نمائندے اور میڈیا بارہا ان مسائل کی نشان دہی کرتے رہے ہیں، لیکن مستقل اور مربوط منصوبہ بندی کے فقدان نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات، نگرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا بھی ہے۔
حیدرآباد کےشہریوں کو درپیش ایک اور سنگین مسئلہ قدرتی گیس کی غیریقینی فراہمی ہے۔ گرچہ پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور طلب میں مسلسل اضافہ ایک قومی چیلنج بن چکا ہے، لیکن اس کے اثرات شہری زندگی میں زیادہ نمایاں نظرآتے ہیں۔
ناشتے اور رات کے کھانے کے اوقات میں گیس کا کم پریشر یا بندش اب معمول بن چُکی ہے۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف گھریلو زندگی متاثر کی ہے بلکہ ہوٹلز، بیکریز، چائے خانوں، تندوروں اور چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ بہت سے گھرانے مجبوری کے تحت ایل پی جی سیلنڈر استعمال کرتے ہیں، جو قدرتی گیس کا کہیں زیادہ منہگا متبادل ہے۔
بنیادی سہولتوں کے بُحران کا سب سے خطرناک پہلو اُس وقت سامنےآتا ہے،جب یہ صحتِ عامہ متاثر کرنے لگتا ہے۔ حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں سیوریج کا پانی سڑکوں، گلیوں اور بازاروں میں جمع رہنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ معمولی بارش بھی کئی علاقوں میں نکاسیٔ آب کے نظام کی کم زوری بےنقاب کردیتی ہے۔ اس موقعے پر سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سیوریج کا جمع شدہ پانی صرف گندگی کا سبب ہی نہیں بنتا بلکہ مچھروں اور جراثیم کی افزائش کا باعث بن کرصحتِ عامہ کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کردیتا ہے۔ گرچہ ’’واسا‘‘ کا بنیادی مقصد شہریوں کوصاف پانی کی فراہمی اورنکاسیٔ آب کا مؤثر نظام فراہم کرنا ہے، لیکن شہری حلقوں، تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مسلسل یہ شکایت سامنےآتی رہی ہے کہ شہر کا واٹر سپلائی اور سیوریج نیٹ ورک اپنی میعاد پوری کرچُکا ہے۔
کئی علاقوں میں بوسیدہ پائپ لائنزسے پانی کا زیاں معمول ہے، جب کہ بعض مقامات پر صاف پانی میں سیوریج کے شامل ہونے کی شکایات بھی موجود ہیں اور یہ صورتِ حال صرف انتظامی مسئلہ نہیں، صحتِ عامہ کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔
نئی رہائشی اسکیمز، تجارتی مراکز اور آبادی کا پھیلاؤ اس قدر تیزرفتار ہے کہ موجودہ شہری انفرااسٹرکچراس کا بوجھ برداشت کرنےکے قابل نہیں رہا۔ ماہرینِ شہری منصوبہ بندی کے مطابق، جب آبادی میں اضافہ، انفرا اسٹرکچرکی توسیع سے زیادہ تیزہو، تو پانی، بجلی، گیس، ٹریفک، صفائی اور سیوریج جیسےمسائل ناگزیر ہوجاتے ہیں۔
یہی صورتِ حال آج حیدرآباد میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی نے بھی شہری مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، غیرمعمولی بارشیں اور موسم کے بدلتے انداز شہری اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کررہے ہیں۔ جب انفرااسٹرکچر پہلے ہی کم زور ہو، تو موسمی شدّت کے اثرات کئی گُنا بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے،دُنیا بھر میں اب شہری منصوبہ بندی کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ازسرِنو ترتیب دیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا تعلق کسی ایک ادارے سے نہیں اور ان پر قابو پانےکے لیے واسا، حیسکو، سوئی سدرن گیس کمپنی، بلدیاتی ادارے، سندھ حکومت اور متعلقہ وفاقی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی اور مشترکہ منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اگر ہر ادارہ صرف اپنی ذمّےداری تک محدود رہےاورمشترکہ حکمتِ عملی اختیار نہ کی جائے، تو شہری مسائل کبھی مستقل طور پر حل نہیں ہو سکتے۔
دُنیا کے کئی شہروں نے جدید واٹر مینجمینٹ، اسمارٹ گرڈ، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اورشفاف بلدیاتی نظام کے ذریعے ایسے بُحرانوں پرقابوپایا ہے۔ حیدرآباد میں بھی اگر طویل المدتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، شفاف احتساب اور سیاسی و انتظامی عزم کویک جا کیا جائے، تو یہ شہر دوبارہ ایک منظّم، صاف اور قابلِ رہائش شہری مرکزبن سکتا ہے۔
دُنیا کے جدید، ترقّی یافتہ شہروں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ شہری مسائل کا حل صرف زیادہ بجٹ مختص کرنے میں نہیں بلکہ بہترطرزِ حکم رانی، شفافیت، پیشہ ورانہ منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے میں پوشیدہ ہے۔ استنبول اور کوالالمپور سمیت کئی دیگر شہروں نے پانی، نکاسیٔ آب اور شہری خدمات کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مضبوط بلدیاتی اداروں کی بدولت مؤثر بنایا۔ ان شہروں کی انتظامیہ نے بُحران پیدا ہونے کے بعد ردِعمل دینے کی بجائے طویل المدّتی منصوبہ بندی کو ترجیح دی۔
حیدرآباد کو بھی اب روایتی اورعارضی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے پہلے پانی کی ترسیل کے پورے نظام کا ایک آزادانہ تیکنیکی آڈٹ کروایا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی کہاں ضائع ہو رہا ہے، کون سی پائپ لائنز فوری تبدیلی کی متقاضی ہیں اور کن علاقوں میں فراہمی اور طلب کے درمیان سب سے زیادہ فرق موجود ہے۔
اِسی طرح شہر کے تمام پمپنگ اسٹیشنز کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متبادل توانائی خصوصاً شمسی توانائی کے استعمال پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ سیوریج کے مسئلے کا حل بھی صرف عارضی صفائی مہمات نہیں بلکہ پرانے نیٹ ورک کی مرحلہ وارتبدیلی، جدید ڈرینیج منصوبوں، بارش کے پانی کی علیحدہ نکاسی اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام میں پوشیدہ ہے۔
اگر سیوریج کے گندے پانی کو مناسب طریقے سے ٹریٹ کیا جائے، تو اسے زرعی اوربعض صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے،جس سے میٹھے پانی پر دباؤ کم ہوگا۔ بجلی کے شعبے میں ضروری ہے کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام کی بہتری، بروقت مرمّت، اوورلوڈ فیڈرز کی اپ گریڈیشن اور بجلی چوری کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔ اسی طرح گیس کی فراہمی کے نظام میں بھی پرانی پائپ لائنزکی تبدیلی، پریشر مانیٹرنگ اور طلب و رسد کے بہتر انتظام کے ذریعے شہریوں کوریلیف دیا جاسکتا ہے۔
تاہم، صرف سرکاری اداروں پرتمام ذمّےداری عائد کرنا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ شہریوں پر بھی یہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پانی کا زیاں روکیں، غیر قانونی واٹرکنیکشنز کی حوصلہ شکنی کریں، صفائی کا خیال رکھیں، کچرا نالوں میں پھینکنے سے گریز کریں اور یوٹیلٹی بِلز کی بروقت ادائی یقینی بنائیں۔ یاد رہے، ترقّی یافتہ معاشروں میں شہری تعاون ہی کام یاب بلدیاتی نظام کی بنیاد بنتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بھی حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہوگا۔ دُنیا کےاکثرترقّی یافتہ شہروں میں شہری خدمات کا مؤثر نظام اس لیےقائم ہے کہ بلدیاتی اداروں کومالی و انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ان کی کارکردگی کا باقاعدہ احتساب بھی کیا جاتا ہے۔
جب فیصلے مقامی سطح پر ہوں، وسائل بروقت دست یاب ہوں اور جواب دہی کا نظام فعال ہو، تو مسائل کے حل کی رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے، نیز حیدرآباد کے لیے ایک جامع اربن انفرااسٹرکچر ماسٹر پلان تیارکیا جائے، جو صرف پانچ سال نہیں بلکہ آئندہ بیس سے پچیس برس کی ضروریات مدِنظر رکھے۔
اس منصوبے میں آبادی میں اضافے، موسمیاتی تبدیلی، صنعتی ترقّی، رہائشی توسیع، ٹریفک، پانی، گیس، بجلی، نکاسیٔ آب، ماحولیات اور شہری سہولتوں کے تمام پہلو شامل ہونے چاہئیں۔ آج حیدرآباد ایک ایسے موڑ پر آن کھڑا ہے کہ جہاں مزید غفلت کی گنجائش نہیں۔ اگر بنیادی شہری سہولتوں کی بہتری پر فوری اور سنجیدہ توجّہ نہ دی گئی، تو مستقبل میں مسائل مزید سنگین ہوسکتےہیں۔
دوسری طرف اگر تمام متعلقہ ادارے، منتخب نمائندے، ماہرین، تاجربرادری، سول سوسائٹی اور شہری مشترکہ ویژن کے ساتھ آگے بڑھیں، تو یہی شہر ایک مرتبہ پھر سندھ کے ایک منظّم، فعال اور ترقّی یافتہ شہری مرکز کے طور پر اپنی شناخت بحال کر سکتا ہے۔
حیدرآباد کےعوام اب وعدوں، بیانات اور عارضی اقدامات کی بجائےعملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، کیوں کہ ایک شہر کی عظمت اُس کی عمارتوں میں نہیں،اس کے شہریوں کے معیارِ زندگی، ان کےاعتماد اوراُن کی امیدوں میں ہوتی ہے۔ جب شہری خود کو محفوظ، باوقار اور سہولتوں سے آراستہ محسوس کریں گے، تو تب ہی حیدرآباد حقیقی معنوں میں ترقّی یافتہ، خوش حال اور زندہ شہر کہلانے کا حق دار ہوگا۔ یاد رہے، ترقّی یافتہ شہروں میں بااختیار بلدیاتی نظام شہری ترقّی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
جب مقامی اداروں کو مالی وسائل، انتظامی اختیارات، تیکنیکی مہارتیں اور جواب دہی کا مؤثر نظام فراہم کیا جاتا ہے، تو شہری مسائل کا حل بھی نسبتاً تیز اور پائےدار ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حیدر آباد میں بھی شہری اداروں کو سیاسی مداخلت سے بالاتر ہوکرپیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط کیا جائے، تاکہ فیصلے عوامی ضرورت اور تیکنیکی حقائق کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسمارٹ واٹر میٹرنگ، پانی کے زیاں کی ڈیجیٹل نگرانی، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، شکایات کے آن لائن ازالے، پمپنگ اسٹیشنز کی خودکار مانیٹرنگ، سیوریج نیٹ ورک کی ڈیجیٹل میپنگ اور بجلی کی تقسیم میں جدید نظام کا استعمال نہ صرف شفافیت میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ مالی نقصانات اور وسائل کے زیاں کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔ حیدرآباد کی ترقّی کے لیے حکومت اور شہریوں کے ساتھ میڈیا، جامعات، انجینئرنگ کےماہرین، ڈاکٹرز، وکلاء، تاجر تنظیمیں، صنعت کار اورسول سوسائٹی بھی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔
اگر مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک مستقل ’’حیدرآباد اربن پالیسی فورم‘‘ قائم کیا جائے کہ جو تحقیق، اعداد وشمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر سفارشات مرتّب کرے، تو یہ شہر کی ترقّی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ حیدرآباد صرف ایک شہر نہیں بلکہ سندھ کی علمی، ثقافتی، طبّی، صنعتی اور تجارتی شناخت کا اہم مرکز ہے۔
اس شہرکی بحالی صرف اس کے مکینوں کی ضرورت نہیں، یہ پورے صوبے کی ترقّی سے مشروط معاملہ ہے۔ اگر آج بنیادی شہری سہولتوں کی بہتری کواوّلین ترجیح دی جائے، اداروں کوجواب دہ، وسائل کا شفّاف استعمال یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے، تو یقیناً حیدرآباد ایک بار پھر اپنی تاریخی عظمت، خُوب صُورتی اور وقار حاصل کرسکتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ الزام تراشی کی سیاست سے آگے بڑھ کر اجتماعی ذمّے داری قبول کی جائے کہ شہر صرف حکومتوں کےنہیں، شہریوں کے بھی ہوتے ہیں۔ جب ریاست، ادارے اور عوام ایک مشترکہ مقصد کے تحت کام کرتے ہیں، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ حیدرآباد کے عوام کو بھی یہی اُمید ہے کہ ان کے شہر کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کی بجائے ایک ایسا شہر بنایا جائے کہ جہاں ترقّی کا معیار صرف عمارتوں کی بلندی نہیں، بلند معیارِ زندگی ہو۔