اسلام آباد (ساجد چوہدری، ناصر چشتی، عاصم جاوید) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی ، ایک دوسرے پر الزامات ، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا ، حکومتی ارکان نے جواب دیا کہفیصلہ عدالت نے کرنا ہے عملدرآمد ہوا یا نہیں، آپ عدالت نہ بنیں ۔اس موقع پر سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے آرڈر پر عمل کرنے سے انکار نہیں کر سکتی، حکومت آئین کے تابع ہے یا آئین حکومت کے تابع ہے؟ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت آئین کے تابع ہے اور سپریم کورٹ سمیت عدالتیں بھی آئین کے تابع ہیں، نظر ثانی کا مقصد عدالت کے نوٹس میں لانا ہے کہ آئین یا قانون کی خلاف ورزی ہوئی، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ عملدرآمد ہوا یا نہیں، علی ظفر کو عدالت نہیں بننا چاہئے۔ منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ حکومت عدالت نہ بنے، حکومتوں نے جب عدالتوں کے حکم پر عمل کرنا بند کیا تو آمر آ گئے،میں عمران خان کی بات نہیں کر رہا، اصل سوال آئین کا ہے، کیا حکومت سپریم کورٹ کے آڈرر پر عمل کرنے سے انکار کر سکتی ہے؟ بالکل نہیں، ہم اراکین پارلیمان نے حلف لیا ہے کہ آئین کی پاسداری کرنی ہے، آئین کہتا ہے سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت نے عمل درآمد کرنا ہے، اگر آپ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں کریں گے تو آپ کو توہین عدالت کی سزا ہوتی ہے، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو شفا لے کر جائیں، حکم میں کہا کہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیں، عدالت نے کہا کہ آپ اس فیصلے پر عملدرآمد کریں، عمران خان کو شفا لے کر نہیں گئے، بورڈ تشکیل نہیں دیا، عمران خان کا دل چیک نہیں کیا، ڈاکٹر فیصل سلطان کو چیک اپ میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی ایشو ایک بہانا ہے، سپریم کورٹ حکم کی خلاف ورزی ہوئی، سپریم کورٹ کے آرڈر کو حکومت نے خود تبدیل کر دیا ہے۔