• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ پمز، وزیراعظم کا بڑا ایکشن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسر معطل، بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت، 1 کروڑ روپے انعام

اسلام آباد (رانا غلام قادر) پمز اسپتال کےگائنی وارڈ میں 14نو زائیدہ بچوں کی آتشزدگی کے واقعہ( سانحہ ) کی عبور ی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کردی گئی ہے، وزیراعظم نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے کمیٹی کی نشاندہی پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا،فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی خصوصی ہدایت کی، جبکہ بچے کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت ،ایک کروڑ روپے انعام دینے کی منظوری دی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ پمز اسپتال میں کوئی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں، کمیٹی نے 10ٹاپ افسران کو ہٹانےاورمستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کیلئے سفارشات پیش کی، وزیرِ اعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری پبلک کرنے کی ہدایت کی ہے،وزیراعظم کو اسپتال کی خستہ حالت اور بد انتظامی پر بھی بریفنگ دی گئی انہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پورا وارڈ جلنے میں صرف2منٹ لگے، وزیرِاعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کی موت اندوہناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم غمگین ہے، ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا، وزیرِ اعظم نےڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او- این آئی ایچ (NIH) کو پمنز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے اور تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر صحتمصطفیٰ کمال اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ طور پر پمز اسپتال میں چلڈرن وارڈ کا دورہ کیا اور حکومت کی طر ف سے متاثرین میں چیک تقسیم کیے۔ تفصیلات کے مطابق پمز اسپتال کےگائنی وارڈ میں 14نو زائیدہ بچوں کی آتشزدگی کے واقعہ( سانحہ ) کی عبور ی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کردی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ہفتہ کے روزوزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں ہونے والے پمز آتشزدگی واقعے پر اعلی سطح اجلاس میں پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ 8 افسروں کو فوری طور پر معطل کر کے انکے خلاف فوری کاروائی کرنے کی منظوری دیدی۔وزیرِ اعظم کی کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کردہ ذمہ داران کے خلاف نہ صرف ڈیپارٹمٹل کاروائی بلکہ فوجداری (کریمینل کوڈ) قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔ جن افسروں کیخلاف کارروائی کی منظوری دی گئی ہے ان میںپمز کے ایگزیکٹیو ڈا ئریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سیکورٹی پمز محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بلا امتیاز فوجداری کاورائی کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے سیکیورٹی پر مامور کمپنی اور اسکے عہدیداران کے خلاف کاروائی کی بھی منظوری دی۔ وزیراعظم نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم نےڈاکٹر محمد سلمان، سی ای او- این آئی ایچ (NIH) کو پمنز کا ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر تعینات کرنے کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم نےجن لوگوں کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے انکی جگہ نئے لوگوں کی فوری اور یکمشت تعیناتی کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ کچھ ہی دیر میں وزارت قومی صحت کی ویپ سائٹ پر آویزاں کر دی جائیگی۔ اجلاس کو تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ تقریباً دو منٹ پر محیط واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی اجلاس میں چلائی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا پمز میں آتشزدگی یا ہنگامی صورتحال کے حوالے سے کوئی تفصیلی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔

kk

اہم خبریں سے مزید