تہران ،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران کے رہنمائوں نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی پابندیاں ایرانی معیشت کو متاثر کررہی ہیں تاہم انہوں نے امریکی دبائو اور اسرائیلی سازشوں کیخلاف ڈٹے رہنے ،مزاحمت اور مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ،ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ سفارت کاری اور دفاع ملک کے قومی مفادات، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے "لازم و ملزوم اور ہم آہنگ ہیں اور یہ ایسے ذرائع ہیں جنہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں بے چینی پیدا کرنے سے گریز کریں، انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کو بات چیت اور (اسلام آباد ایم او یو)مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے،حکومت کی ترجیح مہنگائی پر قابو پانا، روزگار پیدا کرنا اور معیشت کا ڈالر پر انحصار بتدریج کم کرنا ہے،انہوں نے مزید کہاہم جنگی صورتحال میں ہیں، ہمیں ان جنگی حالات کو قبول کرنا ہوگا، ایران کی سالانہ مہنگائی گزشتہ ماہ 66 فیصد تک پہنچ گئی، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا و خدمات کی قیمتوں سمیت معاشی مشکلات سے سنجیدگی سے نمٹنے پر زور دیا ہے،دوسری جانب ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول برقرار ہے، قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کی اہمیت پر زور دیاہے جبکہ ایرانی فوج نے اپنے میزائل اور ڈرون ذخائر برقرار رکھنے اور دشمن کے لیے ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی بحری فوج نے آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے سے متعلق امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور امریکی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایک بیان کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ختم نہیں ہوجاتیں اور متعلقہ عزم و معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کر دیا جاتا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک پر عائد امریکی پابندیاں اس کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، حالانکہ صرف چند دن پہلے انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ان پابندیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔