لاہور(آصف محمود بٹ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت نے برآمدی کاروبار پر سپر ٹیکس مکمل ختم کردیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد منافع کمانے والے غیر برآمدی کاروبار پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے، بیمار یونٹس کی بحالی، کاروباری افراد کو ہراسانی سے تحفظ دیا جائیگا۔ حکومت صنعتکاری کے فروغ، بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، کاروباری لاگت میں کمی اور نجی شعبے کو آسان شرائط پر فنانسنگ کی فراہمی کے لیے متعدد اقدامات کررہی ہے۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ بجلی کے بلند نرخ، مہنگے قرضے اور ٹیکسوں کا مجموعی بوجھ پاکستانی صنعت کو خطے کے ممالک کے مقابلے میں غیر مسابقتی بنا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ حکومت بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم، سولر پینلز، موبائل فون مینوفیکچرنگ، الیکٹرک وہیکلز، زرعی آلات، کھاد، آٹو موبائل اور دیگر شعبوں کے لیے نئی پالیسیاں متعارف کرارہی ہے تاکہ ملک میں مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جاسکے اور درآمدات پر انحصار کم ہو۔ نئی آٹو پالیسی بھی حتمی مراحل میں ہے جس میں الیکٹرک دو، تین اور چار پہیوں والی گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات شامل ہوں گی۔ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی وزیراعظم کی منظوری سے تیار ہوچکی ہے، جس میں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، کاروباری اداروں کو غیر ضروری ہراسانی سے تحفظ، آسان فنانسنگ اور کاروباری تنازعات کے فوری حل کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہیں۔ کمرشل کورٹس، دیوالیہ پن اور کاروباری اداروں کی تنظیم نو کے لیے بھی مؤثر نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔