کراچی (محمد منصف) گل پلازہ کمیشن نے سانحہ کو صوبائی اور شہری حکومت کے موجودہ سسٹم کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں انسانوں کی جانیں محض آگ کے شعلوں کے باعث نہیں بلکہ ریسکیو آپریشن میں غیر ضروری تاخیر، داخلی و خارجی راستوں سمیت ہنگامی اخراج کا نہ ہونا، کھڑکیوں کا بند ہونا ، عمارت میں دھوئیں کا بھر جانا ، اندھیرے کا پھیل جانا، فائر سیفٹی آلات کی عدم دستیابی کے باعث ہوئیں جو نہ صرف بہت بڑی عبرت ہے بلکہ صوبائی اور بلدیاتی نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت بھی ہے،فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122 اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مجرمانہ غفلت کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں،عمارت میں ہنگامی اخراج، فائر سیفٹی آلات، پانی اور روشنی کا نہ ہونا سانحے کو المیے میں تبدیل کرنے کی بڑی وجوہات تھیں، سانحہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی تاہم رپورٹ میں کسی فرد یا افراد کو سانحہ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ جوڈیشل کمیشن کے مذکورہ دستیاب مسودے پر کسی سرکاری آفیسر یا کمیشن کی دستخط یا مہر ثبت نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کمیشن رپورٹ کے مطابق گل پلازہ منیجنگ کمیٹی منتظم کی حیثیت سے موقع پر موجود تھی لیکن واقعہ رونما ہوا تو اس نے عمارت میں موجود لوگوں کو بچانے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ رپورٹ میں واضح کہا گیا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی بذریعہ فائر بریگیڈ کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ بروقت پہنچ کر مؤثر انداز میں ریسکیو آپریشن کرتی لیکن فائر بریگیڈ اپنی زمہ داری میں مکمل طور پر ناکام ہوئی کمیشن کے سامنے فائر بریگیڈ نے کہا کہ انکے پاس پانی کا مناسب اسٹاک موجود تھا لیکن کارروائی کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ آگ بھجانے کے دوران ہی پانی ختم ہو گیا جسکی وجہ سے مشکلات بڑھیں اور اموات میں اضافہ بھی ہوا۔ کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ کمیشن کے سامنے اپنی زمہ داری تسلیم کرنے کے بجائے دوسرے سوک اداروں پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور سپریم کورٹ 2010 کے فیصلے کے مطابق بنیادی ذمہ داری کے ایم سی کے ساتھ عائد ہوتی کیونکہ احتیاطی تدابیر اور فائر ریسکیو آپریشن کی بنیادی ذمہ داری کے ایم سی کی ہے۔ جوڈیشل کمیشن میں کہا گیا ہے کہ آگ کے شعلوں میں جلتی عمارت سے لوگوں کی بچاؤ بچاؤ کی آوازیں آتی رہیں لیکن فائر بریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے آلات تک نہ تھے جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بری طرح سے متاثر ہوا۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی آگ بھجانے اور لوگوں کی جان و مال بچانے میں کے ایم سی بذریعہ فائر بریگیڈ اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ بھی سنگین غفلت کا مرتکب پایا گیا ہے کہ اپنے فرائض کے مطابق قبل از وقت عمارتوں میں جانچ پڑتال ، بلڈنگ میں مطلوبہ معیار میں خرابیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی ، سول ڈیفنس نے آڈٹ اور انسپیکشن پر عمل درآمد نہیں کروایا اور نہ ہی حفاظتی اقدامات سے متعلق کوئی تربیت دی۔ چیئرمین کمیشن نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے بھی فائر آڈٹ میکنزم کو بروئے کار نہیں لایا اور ڈپٹی کمشنر متاثر کن نگرانی اور کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کی زد سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی نہ بچ سکی جس کے متعلق لکھا گیا ہے کہ آڈٹ ورک فریم کے مطابق بلڈنگ ہسٹری کا ریکارڈ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ ایس بی سی اے کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن 2002 پر من و عن عمل درآمد کراتا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا جو کہ سانحہ کی ایک وجہ بنا۔ کمیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 بھی احسن طریقے سے اپنی زمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا ہے کہ ان کے پاس بھی مناسب آلات نہیں( واضح رہے کہ ریسکیو 1122 کے لئے ہر سال اربوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے) مشاہدے میں کہا گیا کہ کمیشن مجموعی طور پر سمجھتا ہے کہ سانحہ گل پلازہ صوبائی اور شہری حکومت کے موجودہ سسٹم کی ناکامی ہے۔