• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنگیت ایک الگ ہی پُراسرارجہانِ حیرت ہے، کوہِ قاف جیسا۔ وہاں کی ہوا سُریلی، فضا رسیلی اور صدا نشیلی ہے۔ پہلے پہل میرا گاہے بگاہے وہاں آنا جانا لگا رہتا تھا، یعنی مہینوں میں ایک آدھ سرگم بھر پھیرا لگ گیا، کبھی چاند دو چاند میں الاپ تک ہو آیا۔ پھر ایک دن یُوں ہوا کہ وہ جہان خُود مجھ میں آن بسا۔ اب میرا ہارمونیم یا بانسری میرے پاس ہو نہ ہو، سُر میرے ہم راہ ضرور رہتے ہیں۔ انہی سُروں کی انگلی تھامے تھامے ایک دن میں اُس سُریلی رُوح تک پہنچا کہ جسے دُنیائے سنگیت حمیرا چنّا کے نام سے جانتی ہے۔

اس پہلی مدُھر ملاقات کا سہرا برادرِ عزیز خرم لطیفی کے سر جاتا ہے کہ جنہیں عصرِ حاضر میں اے آر رحمان، خواجہ خورشید انور، پنچم دا یعنی آر ڈی برمن، لکشمی کانت پیارے لال، نثار بزمی، ماسٹر غلام حیدر اور سُہیل رانا جیسے موسیقاروں کا دھیان گیان حاصل ہے۔ خُرم بھائی کا غزلوں کی دُھنوں پر مشتمل ایک پراجیکٹ تھا، جو وہ بہترین میوزک پروڈیوسر اور ڈائریکٹر حسن بادشاہ کے اسٹوڈیو میں کر رہے تھے۔ ناچیز اُس پراجیکٹ میں بطور شاعر موجود تھا۔ سو وہیں حمیرا چنّا سے ملاقات ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں مَیں نے اُنہیں حُمیرا آپی اور اُنہوں نے مجھے بیٹا کہنا شروع کردیا۔ تخاطب کا یہ سلسلہ تاحال قائم ہے اور اُن شااللہ دائم قائم ہی رہے گا۔

اُس ملاقات میں حُمیرا محض استھائی انترے میں نہیں رہیں بلکہ مجھے سرگم اور ہرغم سے ماورا ملیں۔ وہ صرف سُروں ہی سے مُغنّیہ نہیں، لفظوں، آنکھوں اور باتوں سے بھی گیت بکھیرتی ہیں۔ آپ نے گُل پاش توسُنا ہوگا یعنی جو گلاب بکھیرتا ہے، حُمیرا نغمہ پاش ہیں۔ باتوں باتوں میں اُنہوں نے ایک مُنّا سا الاپ کیا تو یوں لگا کہ گویا کئی ستار چِھڑ گئے، کئی سارنگیاں رقصاں ہو گئیں، کئی سارنگیاں اور رُباب محوِ نغمہ ہوئے۔

سچّا سُچّا فن کار کب وقت سے دبا یا زمانےسےتھما ہے۔ فن اصیل ہے تو دیواروں سے بھی یُوں نکل آتا ہے، جیسے پتھروں میں سبزہ۔ حُمیرا کے خدوخال بھی مجھے سُریلے لگے۔ سمن قامت ہیں اور اپنے فن سے آگاہ بھی۔ خوش پوش ہیں، ویسے جو پہنیں، جچ جاتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران پہلی ہی کوشش بارآور ہوئی تو خُرم کہنے لگے کہ یہ ہوتا ہے، سچّا فن کار کہ موسیقار کی رُوح تک کو بھانپ لیتا ہے۔ اس پر حُمیرا نے نہایت عاجزی سے سر جُھکایا اور آسمان کی طرف اشارہ کیا کہ سب مٹھاس اوپر والے کی عطا ہے۔

حمیرا چنّا نغمۂ دل کی ایک روشن، پُرنور صُورت مُورت ہیں۔ وہ بلاشبہ پاکستانی موسیقی کے افق پر طلوع ہونے والی اُن چیدہ خوش نواؤں میں سے ہیں، جن کی لے میں اپنی رہتل کی مٹّی کی خوشبو، صوفیانہ کلام کی سرمستی، لوک دُھنوں کی سادگی اور فلمی موسیقی کی رنگارنگی یک جا ہوگئی ہے۔ 22 جون 1966ء کو حیدرآباد میں آنکھ کھولنے والی حمیرا چنّا نے محض گیت نہیں گائے، کئی عشروں تک کروڑوں پاکستانی سماعتوں کو اپنی آواز کا ایک خاص آہنگ عطا کیا ہے۔ یہاں مجھے کہنے دیجیے کہ یہ امر کوئی حیران کُن نہیں کہ وہ پاکستان کی چھے مرتبہ نگار ایوارڈ یافتہ فلمی پلے بیک سنگر ہیں۔

نگار ایوارڈ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ یہ اعزازحاصل کرنے والوں کی فہرست میں اُن کا مقام تیسرا ہے۔ ان سے آگے صرف دو ہی نام آتے ہیں۔ ملکۂ ترنم نُورجہاں اور مہناز۔ لیکن یہ درجہ محض اعداد و شمار کی کوئی خشک سطر یا عام خبر نہیں، پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں یہ ایک ایسا مقام ہے کہ جسے برسوں کی ریاضت، مسلسل گائیکی اور بے شمار نغموں نے مل کر پیدا کیا ہے۔ حمیرا ایک سندھی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔

فنِ موسیقی سے ان کا رشتہ کسی اتفاق کا ثمر نہ تھا، گھر ہی سے اس راہ کی طرف ایک دستِ شفقت بڑھا ہوا تھا۔ اُن کے والد فلم ساز تھے اور یہی نسبت انہیں بہت کم عُمری میں فلمی دنیا کے دروازے تک لے آئی۔ ابھی عُمر صرف نو برس تھی کہ اُنہوں نے اپنے والد کی فلم کے لیے پہلی مرتبہ گایا۔ یوں جس عُمر میں بچّے گلیوں میں کھیلتے ہیں، اُس عُمر میں حمیرا کی آواز فلمی پردے کے پس منظر میں اپنا پہلا نقش ثبت کر رہی تھی۔ وہ پہلی لے شاید ایک ننھی سی صدا تھی مگر اُس کے اندر آنے والے زمانوں کی مدُھر گونج چُھپی ہوئی تھی۔

ایک بار لاہور میں غزل کی ایک محفل تھی کہ جس میں جُوق درجُوق لوگ ایک نام کی وجہ سے اُمڈتے چلے آرہے تھے اور وہ نام تھا حمیرا چنّا۔ محفلِ موسیقی کے بعد کھانے کے دوران میں نے اُن سے پوچھا کہ اتنی کم عُمری میں پہلا گیت ریکارڈ کروانے کا تجربہ کیسا تھا۔ حُمیرا خاموشی سے یُوں مسکراتی رہیں، جیسے ماضی کی بہترین یادوں میں ڈُبکی لگا لی ہو۔

پھر جب دوبارہ لمحۂ موجود میں آئیں تو اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں بتانے لگیں کہ ’’ابّو نے پہلے سندھی فلمیں بنائیں۔ پھر جب لاہور شفٹ ہوئی تو ایک پنجابی فلم بنائی اور ’’اکھاڑا‘‘ کے نام سے اُسی کا ایک اُردو ورژن بنایا۔ ابو کا فنونِ لطیفہ سے بہت گہرا تعلق تھا۔ گھرمیں موسیقار، شاعر، سازندے، گائیک آتے جاتے تھے۔ مَیں اُن سب کی گفتگو چُپکے چُپکے سُنتی تھی اور سیکھتی تھی۔ جو جو دُھن بنتی، مَیں چُپکے سے یاد کرکے ابو اور امّی کو سُناتی تھی کہ آج یہ دُھن بنی۔ ایک زمانے میں ابّو ’’دروازہ کُھلا رکھنا‘‘ نام کی فلم بنارہے تھے۔

وہ مکمل تو نہیں ہو پائی اور دو تین گیتوں ہی تک محدود رہی، لیکن اس میں ایک خاص سچویشن پر ایک گیت تھا۔ ابّو نے میرا شوق بھی دیکھا تو مجھ سے وہ گانا گوایا۔ مَیں چھوٹی سی تھی اور مائیک بہت اونچا، سو مَیں ایک اسٹول رکھ کر مائیک تک پہنچی۔ وہ ایک یاد گار واقعہ تھا۔ مجھےمیری امّی کی بھی بہت سپورٹ تھی، جنہوں نے ابّو کی اجازت سےکلاسیکل سیکھ رکھا تھا۔

کراچی میں اُستاد بشیر احمد خان کلاسیکل گائیک تھے، اُن کی مَیں شاگرد ہوئی۔ بعد میں عظیم موسیقار نثار بزمی صاحب سے سیکھا۔ مَیں ان تمام موسیقاروں کو بھی اپنا اُستاد مانتی ہوں کہ جن کی بنائی دُھنیں مَیں نے اُنہی سے سیکھ کر، اُنہی کا انداز اور انگ سمجھ کر، گیتوں کی صُورت عوام کے سامنے پیش کیں۔‘‘

حُمیرا کو پاکستانی ٹیلی وژن (کراچی سینٹر) پر صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی کا لوک اور صوفیانہ کلام گانے کا موقع ملا۔ بھٹائی کے رس سے آشنا ہونا کسی بھی گائیک کے لیے محض گیت کا وسیلہ ہی نہیں بلکہ روح اور سُر کے درمیان ایک ایسی ملاقات ہے، جس میں لفظ، لے اور جذبہ ایک ہی نکتے پر آ کر ٹھہر سے جاتے ہیں۔ حمیرا نے اس کلام کو اپنی آواز میں خُوب مٹھاس بھر کے برتا تو اُن کی گائیکی میں سندھ کی دھرتی کی وہ قدیم خوشبو بھی سنائی دینے لگی، جو صدیوں سے صوفیانہ شاعری کے مصرعوں میں بسی ہوئی ہے۔

انیس سو نوّے کی دہائی کے اوائل میں اُن کی آواز نے وہ شہرت حاصل کی، جس کے بعد حمیرا چنّا کا نام پاکستانی موسیقی کے منظرنامے کی ایک مستقل شناخت بن گیا۔ اُن کی گائیکی کا دائرہ کسی ایک زبان، ایک خطّے یا کسی ایک طرزِ موسیقی تک محدود نہ رہا۔ وہ اردو، پنجابی، سرائیکی اور سندھی میں گاتی ہیں۔ گویا ہر زبان ان کے گلےمیں آکر اپنی الگ لے، رنگ اور اپنا الگ مزاج اختیار کر لیتی ہے۔

کبھی اُردو کی نرمی، کبھی پنجابی کی مٹّی سے اٹھی گرم جوشی، کبھی سرائیکی کی مٹھاس اور کبھی سندھی لوک آہنگ کی صوفیانہ سرمستی، اُن کی آواز ان سب کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔2016 ء تک اپنے طویل فنی سفر میں وہ ایک ہزار سے زیادہ گیت گا چُکی تھیں۔ ایک ہزار گیت، سوچیے ذرا۔ مگر حمیرا چنّا کی آواز کو صرف تعداد میں ناپنا ایسا ہی ہے، جیسے کسی دریا کی وسعت کو اُس کے کنارے گِن کر سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اُن کے لیے گیت محض گایا جانے والا کلام نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک آنندتا، مدُھرتا اور کو ملتا ہے، جو آواز میں ڈھل کر سامع کے دل تک پہنچتی ہے۔

حمیرا چنّا کے فنی سفر کا ایک دل چسپ باب وہ بھی ہے، جب 1980 ء کی دہائی میں وہ ناہید اختر کی متبادل گلوکارہ کے طور پر سامنے آئیں۔ ناہید اختر نے شادی کے بعد پاکستانی فلمی صنعت سے کنارہ کشی اختیار کی، تو فلمی موسیقی کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوا اور حمیرا چنّا کی آواز نے اس خلا میں اپنی جگہ بنانا شروع کردی۔ مگر کسی دوسرے کی جگہ سنبھال لینا اور اپنی جگہ بنا لینا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔

حمیرا نے صرف ایک خلا پُر نہیں کیا، اُنہوں نے رفتہ رفتہ اپنی ایک الگ، جداگانہ، انوکھی، نرالی اور نویکلی شناخت قائم کی، اپنا مخصوص سُر پیدا کیا، اپنی آواز کا رنگ متعیّن کیا اور یوں پلے بیک گائیکی کے اُس کارواں میں شامل ہوئیں، جس میں پاکستان کی عظیم گلوکاراؤں کی آوازیں پہلے ہی اپنے اپنے چراغ روشن کر چُکی تھیں۔

2017ء میں پاکستانی فلمی موسیقی کے ایک بدلتے ہوئے منظر نامے نے کئی نام وَر پلے بیک گلوکاروں کو فکرمند کردیا۔ نئی فلمی روایت میں پاپ موسیقاروں اور میوزک بینڈز پر زیادہ زور دیا جانے لگا اور وہ روایتی فلمی گیت، جن کے لیے پلے بیک گلوکاروں کی آوازیں کبھی فلم کی رُوح ہوا کرتی تھیں، بتدریج پس منظر میں جاتے محسوس ہو رہے تھے۔ بہت سے معروف گلوکاروں نے اس صورتِ حال میں کام کی کمی کی شکایت کی۔

یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہ تھا، یہ ایک پورے موسیقیاتی مزاج کے بدلنے کی داستان تھی۔ وہ مزاج، جس میں کبھی گیت فلم کا دھڑکتا ہوا دل ہوا کرتا تھا اور پلے بیک سنگر پردے پر نظر نہ آتے ہوئے بھی کردار کی رُوح کو اپنی آواز عطا کرتا تھا۔ اور پھر یوں ہوا کہ ہوتے ہوتے حمیرا چنّا کی آواز صرف پاکستان کی فلمی اسکرین اور ٹیلی وژن تک محدود نہیں رہی۔ اُنہوں نے امریکا، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، بنگلا دیش اور یورپ کے مختلف حصوں میں کنسرٹ ٹورز کیے۔

یوں ان کی آواز نے سرحدوں کو بھی عبور کیا اور اُن محافل تک پہنچی، جہاں وطن سے دُور بیٹھے پاکستانیوں کے لیے ایک مانوس گیت کبھی پورے گھر، پورے شہر اور پوری مٹّی کی یاد بن جاتا ہے۔ اُن کے لیے اسٹیج محض ایک جگہ نہیں، ایک ایسی محفل ہے، جہاں آواز اور سامع کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا۔ فلم میں آواز کسی کردار کے چہرے کے پیچھے چُھپی رہتی ہے، مگر اسٹیج پر گلوکار اور سامع آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ حمیرا چنّا نے دونوں دنیاؤں میں اپنی آواز کا چراغ روشن رکھا۔

ٹیلی وژن ڈراموں کے ٹائٹل سونگز میں بھی حمیرا چنّا کی آواز نے اپنا رنگ بکھیرا۔ اور اُن کی آواز میں ڈرامے کا ابتدائی نغمہ محض ایک رسمی آغاز نہیں رہتا بلکہ کہانی کے مزاج، کرداروں کے جذبات اور پورے ڈرامائی ماحول کا ایک موسیقیاتی تعارف بن جاتا ہے۔ اُنہوں نے بہت سے ٹیلی وژن ڈراموں کے عنوانی نغمے گائے، جیسے ’’رشتے محبّتوں کے، 2009ء‘‘، ’’شکن، 2010ء“، ’’کاش ایسا ہو، 2013ء‘‘ ’’ناگن، 2017ء‘‘ حمیرا چنّا کی گائیکی کا ایک اور پہلو اُن کے ان گیتوں میں نمایاں ہوتا ہے، جو روایتی فلمی پلے بیک کے دائرے سے باہر نکل کر جدید موسیقی کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ 2014ء میں انہوں نے ’’امبوا تلے‘‘، جاوید بشیر اور میکال حسن بینڈ کے ساتھ گایا۔ اسی برس عباس علی خان کے ساتھ ’’پھول بنرو‘‘ پیش کیا۔ 2017ء میں نبیل شوکت علی کے ساتھ ’’مجھ سے پہلی سی محبت، میرے محبوب نہ مانگ‘‘ گایا۔

ان گیتوں میں حمیرا کی آواز نے یہ ثابت کیا کہ ایک تجربہ کار پلے بیک سنگر وقت کے بدلتے ہوئے ساز و آہنگ سے مکالمہ بھی کر سکتا ہے۔ کلاسیکی اور لوک ذائقوں سے رشتہ برقرار رکھتے ہوئے جدید موسیقی کے سازوں، بندشوں اور صوتی تجربات میں اُترنا ہر گلوکار کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے آواز کے ساتھ ساتھ سُرکی تربیت، لے کا شعور اور موسیقی کے مزاج کی گہری پہچان درکار ہوتی ہے۔

حمیرا چنّا کی فنی زندگی پر اعزازات کی ایک روشن لڑی بھی پڑی ہوئی ہے۔ اُنہیں بہترین خاتون پلے بیک سنگر کی حیثیت سے چھے مرتبہ نگار ایوارڈ ملا۔ 1986ء، 1989ء، 1991ء، 1993ء، 1994ء اور 1997ء میں۔ یہ چھے اعزازات دراصل چھے الگ الگ سنگِ میل ہیں، مگر اِن سب کے پیچھے ایک ہی مسلسل سفر ہے، مائیک کے سامنے کھڑی ایک آواز کا، جو برسوں تک فلمی گیت کے جذبات کو اپنی لے اور آہنگ میں ڈھالتی رہی۔ 1986ء میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کا بہترین گلوکارہ ایوارڈ بھی اُن کے حصّے میں آیا۔ اور پھر 2017ء میں صدرِ پاکستان کی جانب سے انہیں ’’پرائیڈ آف پرفارمینس‘‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز اس فن کارانہ سفر کی ایک ایسی سرکاری توثیق تھی، جسے عوامی سماعت، فلمی موسیقی اور محفلوں کی داد بہت پہلے تسلیم کر چُکی تھی۔

حمیرا چنّا کی شخصیت کو اگر ایک استعارے میں بیان کرنا ہو تو شاید اُنہیں ایک ایسی دُھن کہنا مناسب ہوگا، جو کئی سازوں سے گزر کر بھی اپنی پہچان گُم نہیں کرتی۔ سندھ کی لوک مٹّی سے اُٹھنے والی یہ آواز فلم کے پردے سے ٹیلی وژن تک، صوفیانہ کلام سے پلے بیک گائیکی تک، روایتی دُھنوں سے جدید میوزک تک اور پاکستان سے دنیا بھر کی محفلوں تک سفر کرتی رہی ہے۔

بڑا فن کار تنوّع کو اپنے فن کے اظہار کا ذریعہ اور اپنی مشّاقی کی پہچان بناتا ہے۔ حمیرا کے ہاں تنوّع سُر سے شروع ہوتا ہے اور لےکاری اور تان کی منزلوں سے گزرتا پورے گیت تک پھیل جاتا ہے۔ مومن خان مومن کا شعر دھیان میں آتا ہے کہ ؎

اُس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو

اُن کے گلے میں صرف سُر نہیں، ایک زمانے کی بازگشت ہے۔ آوازمیں صرف گیت نہیں، پاکستانی فلمی موسیقی کے ایک پورے عہد کی یاد محفوظ ہے۔ کبھی وہ دُھن کے پیچھے چلتی ہیں، کبھی دُھن ان کے پیچھے۔ کبھی لفظ سُر کو سہارا دیتا ہے اور کبھی سُر لفظ کو نئی زندگی بخش دیتا ہے۔ یہی تو ایک پختہ گلوکارہ کا کمال ہے کہ اُس کی آواز سنائی نہیں دیتی، دل میں اُترتی ہے۔ اور صاحبو! حمیرا چنّا کی آواز نے برسوں سے یہی کام کیا ہے۔

گیت کو محض گیت نہیں رہنے دیا، اُسے ایک یاد، ایک کیفیت اور ایک زندہ موسیقیاتی تجربہ بنا دیا۔ آپ کو آج بھی اگر مُسکراہٹ بھری مدُھرمیٹھی موسیقی کے ماحول سے محظوظ ہونا تو لگائیے گیت حمیرا چنّا کا اور کھو جائیے، اُس جہان میں کہ جسے سَچّا، سُچّا سنگیت کہتے ہیں۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)