• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور کے چند کاروباری افراد سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کرسکتے، کسی میں ہمت ہے تو قرارداد لا کر دکھائے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےسندھ اسمبلی میں کہاہے کہ سندھ کی تقسیم کا فیصلہ لاہور کے چندکاروباری افراد نہیں کرسکتے، صوبے کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا اختیار صرف سندھ اسمبلی کے ارکان کے پاس ہے ، کسی میں ہمت ہے تو سندھ کی تقسیم کی قرارداد لاکر دکھائے، جب تک ہم میں سے ایک ممبر بھی زندہ ہے ہمارا صوبہ تقسیم نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے کہا کہ سندھو دیش کے خلاف قرارداد کیوں نہیں لائی جاتی ۔اضلاع بننے سے کراچی تقسیم نہیں ہوا تو صوبہ کیسے تقسیم ہوگا۔ وہ پیر کو سندھ کی تقسیم کے خلاف اسمبلی میں سینئر پارلیمنٹرین اور پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کی تحریک التوا ءپر خطاب کررہے تھے ۔ سندھ اسمبلی نے نثار کھوڑو کی یہ تحریک جمعہ کو اپنے اجلاس میں بحث کے لئے منظور کرلی تھی ۔ امکان ہے کہ اس اہم تحریک پر ایوان میں گرما گرم بحث جاری رہے گی اور اپنے حساس موضوع کے باعث سندھ اسمبلی کا رواں اجلاس کافی ہنگامہ خیز بھی ہوسکتا ہے ۔پیر کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت تقریباً دوگھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا ۔ا یوان کی کارروائی سے قبل حکومت اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے علیحدہ پارلیمانی اجلاس منعقد کئے تاکہ رواں اجلاس سے متعلق اپنی حکمت عملی طے کی جاسکے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے 1948، 2000، 2014، 2019 اور 2026 میں سندھ کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کی ہیں۔ سندھ اسمبلی فیصلہ کرے گی، یہاں بحث ہوگی۔کوئی ٹی وی پر اور جلسے میں تقسیم کا فیصلہ نہیں کرے گا۔یہ بہت اہم معاملہ ہے ۔اس پر سب کو بولنا چاہئے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے جو لوگوں کی مرضی ہوگی ہم وہ کریں گے۔ایوان میںبحث ہوجائے، ضرورت پڑی تو ہم سندھ کی تقسیم کے خلاف دوبارہ قرارداد پاس کردیں گے۔ پچھلی قرارداد میں سندھ کی تقسیم کے حق میں کچھ لوگ بولے تھے۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ سندھ ہمیشہ ایک رہے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالت، جلسے یا ٹی وی پر سیمینار سے سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں ہوسکتا، ہمیں کسی عدالت کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں، مگر صوبے کی تقسیم کا فیصلہ سندھ اسمبلی کرے گی کیونکہ بحث کی اصل جگہ سندھ اسمبلی ہے۔ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے اٹھنے والی تمام آوازوں کا جواب سندھ اسمبلی دے گی۔

اہم خبریں سے مزید