کراچی (سید محمد عسکری) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام اور ایکریڈیٹیشن سے متعلق ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک کی مخالفتکرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی قانون کے تحت قائم ہونے والی جامعات کے قیام، منظوری، معائنے، نگرانی اور ضابطوں پر عمل درآمد کے اختیارات متعلقہ صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ہونے چاہئیں۔ پنجاب ایچ ای سی نے نئی جامعہ کے قیام کیلئے ایک ارب 60کروڑ روپے جبکہ انسٹی ٹیوٹ یا ذیلی کیمپس کیلئے 40 کروڑ روپے کی یکساں مالی شرط کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر اور لیہ و بھکر جیسے چھوٹے اور دورافتادہ علاقوں میں قائم ہونے والی جامعات کیلئے یکساں مالی شرائط منصفانہ نہیں ہوسکتیں۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء الحق کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ مجوزہ فریم ورک کا آئینی، قانونی، ضابطہ جاتی اور عملی پہلوؤں سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ پنجاب ایچ ای سی کی 46ویں اجلاس میں ان سفارشات کی متفقہ توثیق کرتے ہوئے انہیں مجوزہ فریم ورک کا حصہ بنانے کیلئے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔