ملتان(سٹاف رپورٹر) محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں کپاس بارےمعلوماتی اور علمی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ، اساتذہ، زرعی ماہرین اور کاشتکاروں نے شرکت کی، سیمینار کا بنیادی مقصد کپاس کی پیداوار میں جدید سائنسی طریقۂ کار، پودے کی فزیالوجی، غذائی ضروریات، پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور جدید فیلڈ میپنگ ٹیکنالوجیز کے حوالے سے شرکاء کو آگاہی فراہم کرنا تھا،سیمینار کے گیسٹ سپیکر ڈاکٹر کیٹر ڈیوس ہیک، ایگرونومی کنسلٹنٹ، انوگرو نے کپاس کے پودے کی نشوونما اور پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل پر تفصیلی لیکچر دیا۔ انہوں نے کپاس کے پودے کی فزیالوجی، پانی اور غذائی اجزاء کے متوازن استعمال، فصل کی مختلف نشوونما کے مراحل، درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سمیت جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی بہتر پیداوار کے لیے صرف روایتی طریقۂ کاشت پر انحصار کافی نہیں بلکہ جدید تحقیق، درست معلومات، بروقت فیصلوں اور سائنسی بنیادوں پر فصلوں کے انتظام کو فروغ دینا ہوگا۔