تحریر…افتخار احمد خانزادہ جنگِ ستمبر 1965جب پاکستان پر مسلط کی جا چکی تو پاکستان کی مسلح افواج تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت اپنے اپنے دائرۂ کار میں سرگرمِ عمل ہو گئیں۔ 6 ستمبر 1965کی دوپہر بحیرۂ عرب میں گشت پر تعینات پاک بحریہ کے جہازوں کو نیول ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ایک خفیہ سگنل کے ذریعے آگاہ کیا گیا کہ: "ٹاسک گروپ کے جہاز پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہجہان اور ٹیپو سلطان7ستمبر کی شام دوارکا، لائٹ ہاؤس سے 120 میل کی دوری پر پہنچ جائیں، انجنوں کو پوری قوت کے ساتھ تیار رکھا جائے۔ یہ گروپ آدھی رات کو دوارکا پر بمباری کرے گا۔ ہر جہاز 50 گولے فائر کرے گا اور8ستمبر کی رات ساڑھے بارہ بجے مشن مکمل کرنے کے بعد جہاز پوری رفتار کے ساتھ اپنے گشت کے مقامات پر واپس لوٹ جائیں گے۔ علاقے میں دشمن کے ایک دو فریگٹس کے علاوہ فضائی حملوں کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے۔" اگلے روز7ستمبر کی شام جہاز فیولنگ مکمل کرتے ہوئے6بجے مقررہ مقام تک پہنچ چکے تھے۔ مشن کمانڈر پی این فلوٹیلا ٹاسک گروپ، کموڈور ایس ایم انور (کمانڈر پاکستان فلیٹ) نے بھی شام چھ بج کر پینتیس منٹ پر ایک خفیہ سگنل کے ذریعے حملے سے متعلق حتمی ہدایات جاری کیں کہ: "حملے کے وقت ابتدائی پوزیشن دوارکا لائٹ ہاؤس سے 206 ڈگری، ہدف سے فاصلہ 6 میل، جہازوں کا درمیانی فاصلہ7کیبل اور رفتار15میل فی گھنٹہ برقرار رکھی جائے، گولہ باری کے اہداف میں بھارتی تنصیبات اور واضح نظر آنے والی چمنیاں ہوں گی، پرائمری ریڈار اور الٹرا ہائی فریکونسی (یو ایچ ایف) کے علاوہ برقی سگنلز کے تمام ذرائع بند ہوں گے، اور ریڈیو پر مکمل خاموشی کا اطلاق رہے گا، جسے مقررہ مقام پر پہنچنے کے بعد ختم کر دیا جائے، مشن کمانڈر کا جہاز ایک مخصوص ریڈیائی سرکٹ پر مواصلاتی رابطے کے لیے موجود رہے گا۔" یہ7ستمبر ہی کی ایک ابر آلود شام تھی اور سمندر میں معمول سے کچھ زیادہ طلاطم، جنوب مغربی سمت سے مون سون ہوائیں چل رہی تھیں۔ رفتار میں کمی لاتے ہوئے ایک انتہائی مشکل مرحلے کے بعد ہیونگ لائن کے ذریعے حملے سے متعلق انتہائی خفیہ" آپریشن آرڈرز" جہازوں تک پہنچا دیے گئے۔ یہ تمام کارروائی رات آٹھ بجے تک مکمل کرنے کے بعد تمام جہاز مقررہ وقت پر حملےکےلیے متعین کیے گئے مقام پر پہنچ گئے۔ حملے سے کچھ دیر پہلے پی این ایس بابر کو20میل کی دوری پر ایک ریڈار کنٹیکٹ ملا، دوسرے جہازوں نے بھی اس کی تصدیق کی، جسے بعد میں تجارتی جہاز کے طور پر شناخت کر لیا گیا۔ ٹیپو سلطان نے بھی7سے میل کی دوری پر ایک چھوٹے کنٹیکٹ کی نشاندہی کی جو بعد ازاں غائب ہو گیا۔ (ممکن ہے یہ کوئی بھارتی بحریہ کا ہی جہاز ہو جو صورتِ حال کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا ہو، یا اس نے الجھنے کی بجائے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی ہو۔) حملے سے کچھ لمحے قبل کسی کنٹیکٹ کی اس قدر قریب نشان دہی ایک اعصاب شکن مرحلہ ضرور تھا۔ جب جنگ اپنے عروج پر ہو تو دشمن کے پانیوں میں اس کے ساحلوں کے قریب توپوں کی زد میں رہتے ہوئے اس پر حملہ آور ہونا ایک انتہائی جرات مندانہ اقدام تھا۔ پاک بحریہ کے آفیسرز اور جوان قومی جذبے سے سرشار اور کسی بھی طاقت سے ٹکرا جانے کے لیے تیار تھے۔ وہ اس ادراک سے بے خبر تھے کہ وہ پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا ایک عظیم اور یاد گار لمحہ رقم کرنے جا رہے ہیں، جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ ساڑھے پانچ میل کے فاصلے پر دوارکا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، ہدف کی پہچان صرف ریڈار سے ہی ممکن تھی۔ جہازوں پر مکمل اندھیرا اور ریڈیائی خاموشی اختیار کی جا چکی تھی۔ رات 12بج کر 24منٹ پر جہازوں کے آپریشن روم میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں اور توپوں کے دہانے آگ اگلنے لگے، تاریخ رقم ہو رہی تھی، ناقابلِ تسخیر پاکستان اور مستقبل کی مضبوط علاقائی بحری قوت کے انمٹ نقوش تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے جا رہے تھے۔ جہازوں نے پاکستان کے خلاف ہوائی حملوں میں معاونت فراہم کرنے والے ریڈار اسٹیشن کو تباہ کیا، تاریخی شہر میں دھول اڑائی، دھواں پھیلایا اور ہزار سال قبل محمود غزنوی کے حملوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ وقت پڑنے پر ہم پھر پلٹ کر آئیں گے۔ ؎ تند موجوں کے شناور سے ملائی ہے نظر خاک اور خون کے خوگر سے اُلجھ بیٹھے ہو گولہ باری کے دوران بابرجہازنے یہ رپورٹ دی کہ شاید ساحل پر نصب توپوں سے کچھ راؤنڈ فائر کیے گئے ہیں۔ بمباری مکمل کرنے کے بعد پوری رفتار کے ساتھ جہاز اپنے اپنے گشت کے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔ اسی دوران ایک ہوائی جہاز کا کنٹیکٹ ملا جو 38میل کی دوری پر تھا، ممکنہ ہوائی حملے سے نمٹنے کے لیے جہازوں کو ہوائی حملے سے بچاؤ کی ترتیب میں لایا گیا۔ 9سے12 میل کی دوری پر دو اور کنٹیکٹ بھی مشاہدے میں آئے تھے، مشن کمانڈر کے جہاز کو "مین باڈی" کے طور پر جہازوں کے حصار میں لے کر سفر جاری رکھا گیا۔ جہازوں کو احکامات جاری کیے گئے کہ توپوں کی زد میں آنے والے ہر جہاز کو مار گرایا جائے، کچھ جہازوں نے گولہ باری بھی کی لیکن کسی جہاز نے بھی نقصان کی رپورٹ نہیں کی۔ مشن مکمل کرنے کے بعد8 ستمبر کی صبح تمام جہاز کراچی سے سو میل کی دوری پر اپنے گشت کے دائرے تک بحفاظت واپس پہنچ چکے تھے۔" اس غیر متوقع حملے نے نہ صرف ایک اہم ریڈار اسٹیشن کو تباہ کیا بلکہ بھارتی بحریہ کے دلوں میں خوف کی ایک لہر بھی پیدا کر دی گئی کہ پاک بحریہ کچھ بھی کر جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس حملے کے بعد نہ صرف جنگ کا پانسہ پلٹنے لگا بلکہ بھارت کو اپنی جنگی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلیاں بھی کرنی پڑیں۔ یہ دن پاک بحریہ کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ جب اس کے جہازوں نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ پاک بحریہ کی جنگی تاریخ میں اس مشن کو بروقت تزویراتی حکمتِ عملی کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہر سال اس عظیم کارنامے کی یاد اور پاک بحریہ کے شہدا اور غازیوں کو عظیم خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے8 ستمبر "یومِ بحریہ" کے طور پر منایا جاتا ہے۔