• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جمہوری عمل کا ایک اور مرحلہ طے ہوا۔ ہم نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کو فن لطیف کا درجہ دے دیا ہے۔ رائی کا پہاڑ بنانا تو سب نے سن رکھا ہے، ہم نے تو رائی کی کیاریاں تیار کر رکھی ہیں۔ جب چاہیں پہاڑی سلسلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس بار معلوم ہوتا ہے کہ کاٹھ کی اس ہنڈیا کو آخری بار آنچ دی گئی ہے۔ اگرچہ ساجھے داروں کے ناموں کی نشان دہی اس وقت ممکن نہیں لیکن اندر سبھا کا منڈوا ختم ہو گا تو بہت سے پردے اٹھیں گے۔ جمہوری قوتوں کے لئے حالیہ ہفتے تشویش اور اضطراب سے عبارت تھے لیکن اس میں اطمینان کے بہت سے پہلو برآمد ہوئے۔ اگر کسی بڑے حادثے کے بغیر اسلام آباد میں موجود ہجوم منتشر ہو گیا تو ہمارے اجتماعی سفر میں بہت سی راہیں کھلیں گی۔ کچھ سوالات پر غور کی ضرورت ہے۔ اچھی حکمرانی ایک وقیع تمدنی تصور ہے۔ حکومت کو مستعد، اہل ، شفاف اور جواب دہ ہونا چاہئے۔ دنیا بھر میں عام طور سے حکومتیں ان معیارات پر پوری نہیں اترتیں۔ اسی سے حزب اختلاف کا وجود لازم آیا۔ آئین میں دی گئی مدت پوری ہونے پر انتخاب کی مشق دراصل اچھی حکمرانی کے لئے عوام کی جستجو کا ادارہ جاتی بندوبست ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اچھی حکمرانی کے تصور کو ایک مخصوص مقامی مفہوم عطا کیا گیا ہے چونکہ ’’حکومت گڈگورننس میں ناکام ہو گئی ہے چنانچہ آئین کا بستر لپیٹ دینا چاہئے‘‘۔ ضیاء آمریت اور مشرف آمریت کے درمیانی دس سال میں گڈ گورننس کا کوڑا اس طرح لہرایا گیا گویا یہ کوئی الہامی تصور ہے جو بریگیڈیئر امتیاز، روئیداد خان ، سراج منیر، حمید گل، کبیر واسطی اور چوہدری سردار محمد جیسے عبقریوں پہ اترتا ہے۔ اچھی حکمرانی آئین کی بالادستی سے مشروط ہے۔ آئین سے انحراف کی کوئی صورت اچھی حکمرانی پر منتج نہیں ہو سکتی۔ عمران خان اور طاہر القادری اچھی حکمرانی کے لئے عوامی امنگوں کا سودا کرنے نکلے تھے۔ عوام کی اکثریت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ جمہوری قوتوں نے درست مؤقف اختیار کیا۔ ذرائع ابلاغ اور دوسری تمدنی قوتوں نے تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود قابل تعریف اجتماعی شعور کا مظاہرہ کیا۔ ساجھے کی یہ ہنڈیا چوراہے کے بیچ پھوٹے گی۔
عمران خان صاحب کے احتجاج کا ایک بنیادی نقطہ 2013 ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام تھا۔ دھاندلی کے چار ممکنہ ڈھنگ ہو سکتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ انتخابی امیدوار پولنگ بوتھ پر دھاندلی کریں۔ ووٹروں کو دھمکایا جائے۔ جعلی ووٹ بھگتائے جائیں۔ عملے پر دبائو ڈال کر ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑ کی جائے۔ مقامی انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے نتائج میں گڑبڑ کی جائے۔ ایسی دھاندلی ان تمام ممالک میں ہوتی ہے جہاں انتخابی عمل اور جمہوری ثقافت میں نامیاتی ربط نہ پایا جائے۔ انتخابی عذر داریوں کا نظام ایسی دھاندلیوں کے ازالے کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔ سمجھنا چاہئے کہ انتخابی حلقوں کی سطح پر اس نوعیت کی دھاندلیوں سے مجموعی انتخابی عمل کا آئینی جواز مجروح نہیں ہوتا۔ دھاندلی کی دوسری صورت یہ ہے کہ برسراقتدار حکومت یا انتخاب کی نگرانی کے لئے قائم کیا جانے والا اجتماعی بندوبست یا کوئی ریاستی ادارہ پہلے سے طے شدہ نتائج حاصل کرنے کے لئے انتخابی عمل میں غیر جانب داری کے تقاضے مجروح کرے۔ ایسی منظم دھاندلی کے لئے دو ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ انتخابات سے قبل سیاسی قوتوں کی ایسی صف بندی جس سے عوامی تائید رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو ہرایا جا سکے یا ان کی پارلیمانی قوت کو نقصان پہنچایا جائے۔ 1988 ء میں آئی جے آئی کا قیام اسی طرح کی دھاندلی تھا۔ حمید گل واضح طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کے لئے آئی جے آئی تشکیل دی گئی تھی۔ منظم دھاندلی کے ان منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے انتخاب قواعد و ضوابط میں من مانی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں نیز انتظامیہ کو سیاسی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ 1970 ء کے انتخابات میں یحییٰ حکومت نے قیوم لیگ اور دائیں بازو کی کھلم کھلا حمایت کی۔ ریاستی اداروں کی طرف سے رقومات تقسیم کی گئیں۔ 1988ء سے 2008 ء تک کے تمام انتخابات میں ہیئت مقتدرہ نے ادارہ جاتی دھاندلی کے ذریعے من مانے نتائحج حاصل کیے۔ پاکستان کے لوگ ایسی انتخابی دھاندلیوں کے ذمہ دار کرداروں کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ غلام اسحٰق خاں سینہ پھلا کر کہتے تھے ’نہلا دیا ہے، کفنا دیا ہے، دفن کردیں گے‘۔ 2002ء میں تو انتخابات سے پہلے اور بعد احتسابی فائلیں دکھا کر سیاسی جماعتوں میں نقب لگائی گئی تھی۔ ایم ایم اے اور مسلم لیگ (ق) کا قیام ہی انتخابی عمل میں ریاستی مداخلت کا نتیجہ تھا۔ 2006ء میں بینظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت کے ذریعے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے کچھ طور طریقے وضع کیے تھے۔ 2013ء کے انتخابات انتظامی سطح پر پاکستان کے انتخابی تاریخ میں نسبتاً شفاف ترین تھے۔ اگرچہ عوام کے حق جمہور کو اپنی شخصی خواہشات کے تابع کرنے والے اپنا کھیل کھیلتے رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انتخابی حلقوں کی سطح پر دھاندلی کی گئی۔ نامعلوم ذرائع سے ملنے والی رقومات ، نیز ذرائع ابلاغ کے غیر متوازن استعمال کی مدد سے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا گیا۔ طالبان کی مدد سے کم از کم تین سیاسی جماعتوںکو انتخابی عمل سے دور رکھا گیا۔ تعجب ہے کہ عمران خان مسلم لیگ نواز پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہیںجو معروف جمہوری معیارات کے مطابق حزب اختلاف تھی۔عدلیہ سے تعلق رکھنے والے نگران حکومت کے ارکان پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں منظم دھاندلی کرنے والے ان ریاستی حلقوں کا ذکر نہیں کرتے جو سیاسی جماعتیں بنانے اور توڑنے کے کھیل میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جو ذرائع ابلاغ کی صفوں میں نقب زنی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ جن کا نام ہر وہ سیاست دان لیتا ہے جو عوام کی تائید حاصل کیے بغیر سیاست میں چمکنا چاہتا ہے۔ نگران حکومت کے رسمی ارکان کی کیا مجال کہ وہ انتخابی عمل کی کایا ہی پلٹ دیں۔ یہ معجزہ تو کسی اور کے دست ہنر کا کرشمہ ہوتا آیا ہے۔ دھاندلی کے ضمن میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر عدلیہ پر اعتماد نہیں ، پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں پر اعتماد نہیں ، وزیراعظم پر اعتماد نہیں تو پھر الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری افضل خان پر اعتماد کی بنیاد کیا ہے۔ افضل خان وہی صاحب ہیں جو صحافت میں تھے تو افضل قذافی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ 2013 ء کے انتخابات سے قبل انہوں نے میڈیا سے تلخ کلامی کی شہرت پائی تھی۔ بالآخر انہیں نگران وزیر داخلہ ملک حبیب نے بیان بازی سے روک دیا۔ الیکشن کمیشن کے رنگ بھی نیارے ہیں۔ ایک صاحب کنور دلشاد ہیں جنہوں نے کئی برس سے جمہوری اقدار کی قبر کھودنے پر کمر باندھی ہے۔ حیرت ہے کہ ان اصحاب کے قلم یا زبان سے کبھی ایسا لفظ نہیں نکلا جس میں 2002ء کے ریفرنڈم کی شفافیت کو واضح کیا گیا ہو۔ اس میں شک نہیں کہ انتخابی عمل میں اصلاحات کی ضرورت موجود ہے۔اسی طرح گزشتہ انتخابات میں کسی منظم منصوبے کے تحت دھاندلی کی تحقیق بھی ہونی چاہئے لیکن یہ کام بزعم خود پارسا اور خضر صورت بزرگوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ معاملے کی تحقیق اعلیٰ عدلیہ کا منصب ہے اور انتخابی اصلاحات پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔
وزیراعظم سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ تیس دن کے لئے وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو جائیں، کسی آئینی اور جمہوری موقف کا حصہ نہیں۔ وزیراعظم سرکاری اہلکار نہیں ہوتا کہ اسے او ایس ڈی بنا دیا جائے۔ وزیراعظم کو پارلیمنٹ نے اعتماد سے نوازا ہے۔ وزیراعظم خود مستعفی ہو سکتے ہیں یا انہیں پارلیمنٹ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا سکتی ہے۔ مناسب ہو گا کہ کنٹینر بردار رہنمائوں کو یاد دلایا جائے کہ پرویز مشرف پاکستان کے صدر نہیں رہے اور ظفراللہ جمالی پاکستان کے وزیراعظم نہیں رہے اور نہ اب وہ حالات ہیں کہ چوہدری شجاعت حسین کو تین ماہ کے لئے وزارت عظمیٰ کے جھولے پر بٹھا دیا جائے۔ جب اس طرح کی باتیں ہوتی تھیں تب ہماری اسمبلیوں میں عمران خان اور طاہر القادری جیسے نابغہ روزگار رہنما رونق افروز تھے اور وہ شوکت عزیز کو وزیراعظم بننے سے نہیں روک سکے۔ پاکستان کی جمہوری بلوغت جوہری طور پر ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی جمہوریت پاکستان کے لوگوں کی رائے سے صورت پذیر ہو گی۔ اسے حسن کوزہ گر کرداروں کا یرغمالی نہیں بنایا جا سکتا۔ ارے ہاں یاد آیا، شوکت عزیز اب کہاں ہوتے ہیں؟
تازہ ترین