کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ کی انتظامی صلاحیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ پر سوال اٹھ گئے، محکمہ صحت نے 96 ڈاکٹرز سمیت 126 میڈیکس و پیرا میڈیکس کو نئی جگہوں پر تعینات کیا، تاہم متعدد ڈاکٹرز ایسے اسپتالوں اور طبی اداروں میں بھیج دیے گئے جہاں ان کے کیڈر کی ایک بھی منظور شدہ آسامی خالی نہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے 13 اگست 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے تحت 126 میڈیکس و پیرا میڈیکس کو منتقل و تعینات کیا گیا، جن میں 96 ڈاکٹرز شامل ہیں۔ تاہم تعیناتیوں کے بعد خود محکمہ صحت کے ماتحت بڑے طبی اداروں نے نئی پوسٹنگز پر سوال اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہاں متعلقہ اسامیاں پہلے ہی مکمل طور پر پُر ہیں۔ محکمہ صحت کی انتظامی منصوبہ بندی پر سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر تعیناتیوں سے قبل متعلقہ اسپتالوں کی منظور شدہ اسامیوں اور موجودہ ورکنگ اسٹرینتھ کا ریکارڈ کیوں نہیں دیکھا گیا؟ اگر ریکارڈ موجود تھا تو پُر آسامیوں پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کیسے ہوئی اور اگر دستیاب نہیں تھا تو پوسٹنگ سے قبل اسپتالوں سے خالی اسامیوں کی تفصیلات کیوں حاصل نہیں کی گئیں؟ اس حوالے سے ڈاکٹر رتھ کے ایم فاؤ سول اسپتال کراچی، انسٹیٹیوٹ آف اسکن ڈیزیزز سندھ اور سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کراچی نے محکمہ صحت کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ میڈیکل آفیسر/ویمن میڈیکل آفیسر کی کوئی خالی منظور شدہ آسامی موجود نہیں۔ سول اسپتال میں 112 منظور شدہ اسامیوں پر 112 ڈاکٹرز، انسٹیٹیوٹ آف اسکن ڈیزیزز میں 22 میں سے 22 جبکہ سروسز اسپتال میں 19 میں سے 19 اسامیاں پُر ہیں جس کے باعث نئے تعینات ڈاکٹرز کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش نہیں۔ذرائع کے مطابق بعض ڈاکٹرز کو کراچی سے اندرون سندھ بھی تعینات کیا گیا ہے جس پر متاثرہ ڈاکٹرز میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹرز کے ایک وفد نے پیر کو سیکریٹری صحت سندھ سے ملاقات کرکے اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جس پر سیکریٹری صحت نے انہیں مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ محکمہ صحت سندھ میں ایک طرف اصلاحات، ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور آٹومیشن کے ذریعے نظام بہتر بنانے کے دعوے کیے جارہے ہیں، تاہم حالیہ تعیناتیوں نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا صوبے کے اتنے بڑے محکمہ صحت کے پاس اپنے ماتحت اسپتالوں کی منظور شدہ اسامیوں اور خالی پوسٹوں کا مستند اور اپ ڈیٹ ریکارڈ موجود ہے؟ خالی آسامی کے بغیر ڈاکٹرز کی تعیناتی کا معاملہ محکمہ صحت کی انتظامی منصوبہ بندی اور نگرانی پر سنجیدہ سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت کا موقف جاننے کے لئے سیکریٹری طاہر حسین سانگی اور ترجمان شکیل ڈوگر سے رابطہ کیا گیا تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔