• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد ہائیکورٹ، KP حکومت سے PTI لانگ مارچ میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے کا بیان حلفی طلب

اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بنچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور لانگ مارچ کیخلاف کیس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے سرکاری مشینری استعمال نہ ہونے کا بیان حلفی پیر تک طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ، سمجھا دوں گا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کیلئے بیٹھے ہیں۔ چیف سیکرٹری کے پی نے استفسار کیا کہ احتجاج سیاسی سرگرمی ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا وزیر اعلیٰ کے پی نے آئین، قانون یا ملک کی سالمیت کیخلاف کوئی بات نہیں کی، اڈیالہ جیل کے بارے میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، کیا شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟ چیف جسٹس نے کہا توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور توہین کرنیوالے کے درمیان ہوتا ہے، کیسز لگانا عدالت کا انتظامی اختیار ہے، کیا کیسز آپکے مطابق لگنے ہیں؟ آپ نے تو سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کر دیا، جسٹس اعظم خان نے کہا وزیر اعلیٰ مریم نواز اور رانا ثناء اللہ کے بیانات کا تذکرہ، لگتا ہے آپ سیاسی باتیں کررہے ہیں۔ جمعہ کو چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی لارجر بنچ نے تاجر وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی عباس احسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

اہم خبریں سے مزید