• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حوثیوں کے خلاف مدد، ٹرمپ کا انکار، سعودی ولی عہد کا امریکی صدر کو دو مرتبہ فون، امریکا صرف انٹیلی جنس شیئرنگ میں مدد دینے پر تیار

صنعا/تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک) حوثی جنگجوؤں نے جمعہ کو یمن کے پورے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر قبضہ کر لیا اور تین اہم تزویراتی جزائرکو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا جس کے بعد سعودی عرب نے یمن کے ساحلی شہر مخا کے ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کئے ہیں جبکہ مخاکی بندرگاہ کو بھی 6 میزائل حملوں کا نشانہ بنایاگیا ہے۔سعودی عرب نے متعدد حملوں اورکچھ افراد کے زخمی ہونے کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بندکرکے سپلائی معطل کردی ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیرمحمد مخبر نے حوثیوں کو مبارکباد دی ہے‘امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کوصدر ٹرمپ کو دو ٹیلی فون کالزکیں اور انہیں حوثیوں کے خلاف حملے کرنے کی درخواست کی تاہم ٹرمپ نے درخواست مستردکرتے ہوئے مددسے انکار کردیا۔ دوذرائع نے بتایا کہ واشنگٹن نے ریاض کو آگاہ کیا کہ وہ فی الحال براہِ راست فوجی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں تاہم انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور اہداف کے تعین میں مدد فراہم کرے گا‘ادھر تہران کا کہنا ہے کہ پیر کو عمان میں خلیجی ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوگی‘ صدر پزشکیان نے کہاہے کہ ایران پر امریکی دباؤ انتہائی نازک اور خطرناک مرحلے تک پہنچ گیا ہے تاہم دھونس اوردھمکیوں سے کام بنے گانہ دباؤ ڈالنے سے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبورکیا جا سکتا ہے۔علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا ٹیلی فونک رابطہ ہواہے جس میں خطے کی موجودہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیاگیا‘ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی موجودہ حالات پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر سفارتی کوششیں بحال اور کشیدگی میں کمی کیلئے کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ صدرٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ایران تنازع سے جوڑتے ہوئے کہاہےکہ امریکا نائن الیون حملوں کو کبھی نہیں بھولے گا‘ پچیس سال بعد بھی ایران کے خلاف لڑائی کے ذریعے امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہےجبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے گا۔حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ وہ بین الاقوامی بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب سے گزرنے کی اجازت دیں گے تاہم سعودی جہاز رانی کو روک دیا جائے گا۔یمن کی جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی )نے مغربی سفارت کاروں کو خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کو شکست دینے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہےجبکہ سینٹرل کمانڈکے سربراہ حوثیوں کی پیش قدمی پر بات چیت کے لیے سعودی عرب پہنچ گئےہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیاہے کہ صدرٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کرنے کی درخواست مسترد کر دی‘ایگزیوس نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے جمعرات کو ٹرمپ کو فون کرکے یمن میں بگڑتی ہوئی فوجی صورتِ حال سے آگاہ کیا‘شہزادہ محمد بن سلمان نے چند گھنٹے بعد دوبارہ ٹرمپ کو فون کیا اور حوثیوں کے خلاف حملوں کی درخواست کی تاہم امریکی صدر نے ریاض کی مددسے انکارکردیا۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ 200 سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں اورغیر جنگی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید