اسلام آباد(خالد مصطفیٰ)پاکستانی ریفائنریاں عالمی ایندھن بحران کیخلاف تزویراتی ڈھال بن گئیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب رکاوٹوں سے خام تیل کا حصول مشکل، پاکستان میں ایندھن کی سپلائی برقرار،مہنگے خام تیل، محدود مارجن اورقیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی کی افواہوں سے ریفائنریاں پریشان ہیں۔ پاکستان کی ریفائنریز عالمی پٹرولیم بحران کے خلاف ایک تزویراتی حفاظتی حصار کے طور پر سامنے آئی ہیں اور مہنگے خام تیل، محدود ریفائننگ مارجن اور بین الاقوامی توانائی کے راستوں میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران عالمی ڈیزل اور خام تیل کی منڈیوں میں قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں رکاوٹوں نے خام تیل کے حصول اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت کو مسلسل مشکل بنا دیا ہے۔پاکستان اب تک سپلائی کی دستیابی کے لحاظ سے نسبتاً بہتر پوزیشن میں رہا ہے، جہاں پٹرولیم ڈویژن اور ریفائنریز نے مشکل عالمی حالات کے باوجود سپلائی چین کو برقرار رکھنے کا انتظام کیا ہے۔چیلنج اس وقت مزید اہم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ فصلوں کی کٹائی کے موسم کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی طلب میں اضافے کی توقع ہے، جب زرعی سرگرمیوں اور نقل و حمل کی ضروریات میں اضافہ ہوتا ہے۔اسی دوران پٹرولیم مصنوعات کے قیمتوں کے فارمولے میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال خام تیل کی خریداری کے فیصلوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے، کیونکہ ریفائنریز کو حتمی لاگت کی وصولی کے بارے میں وضاحت کے بغیر مہنگے کارگوز کافی پہلے بک کروانے پڑتے ہیں۔سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا کہ عالمی سپلائی کے راستوں سے متعلق شدید اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث خام تیل کا حصول مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔خام تیل کی خریداری کے فیصلے کافی پہلے کرنا پڑتے ہیں اور ان میں نمایاں مالی عزم شامل ہوتا ہے۔ جب مارکیٹیں انتہائی غیر مستحکم ہوں اور اسی وقت ملکی قیمتوں کے فارمولے میں مزید تبدیلیوں کی افواہیں بھی ہوں تو ریفائنریز کے لیے کارگوز خریدنے کا عزم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہاپالیسی میں تسلسل ہونا چاہیے۔ ایک ریفائنری آج مہنگا خام تیل کا کارگو اس وقت نہیں خرید سکتی جب اسے اس بارے میں معقول یقین نہ ہو کہ جب یہ مصنوعات بالآخر مقامی مارکیٹ میں فروخت ہوں گی تو اس کی لاگت کو کس طرح تسلیم کیا جائے گا۔قیمتوں کا معاملہ پاکستان کے ریفائنریوں کی جدید کاری کے پروگرام کے لیے بھی طویل مدتی اثرات رکھتا ہے۔