• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر: صدیق رازؔ

صفحات: 192، قیمت: 1000روپے

ناشر: الحمد پبلی کیشنز، گلشنِ اقبال، بلاک نمبر3، کراچی۔

فون نمبر: 2830957 - 0322

صدیق راز شاعر ہیں، لیکن ایک قانون دان کی حیثیت سے بھی اُن کی نمایاں شناخت ہے۔ بہت مخلص اور ہم درد انسان ہیں اور اُن کی زندگی کا یہ رُخ، اُن کی شاعری میں بھی دَر آیا ہے۔ ہمارے پیشِ نظر اُن کا چوتھا شعری مجموعہ ہے۔

اِس سے پہلے اُن کےجو مجموعہ ہائے کلام منظرِعام پر آئے، اُن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ ’’نہیں راز، کوئی راز‘‘(2018ء)، ’’مسکراہٹ زیرِلب‘‘ (2024ء) اور’’سنہرے راز‘‘ (2024ء)۔ زیرِنظرمجموعہ اُن کی غزلوں، نظموں اور مزاحیہ شاعری پر مشتمل ہے۔

صدیق راز ایک روایتی آدمی ہیں، اِس لیے اُن کی شاعری میں بھی روایت کی پاس داری ملتی ہے۔ روایت سے خُود کو جوڑے رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس ضمن میں ممتاز دانش وَر اورمحقّق ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی یہ رائے سند کی حیثیت رکھتی ہے کہ ’’صدیق راز ایک سادہ طبعیت انسان ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری میں بھی سادگی کا عُنصرغالب ہے۔

اُن کی شاعری تصنّع اور بناوٹ سے پاک ہے، وہ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، آسان زبان میں بیان کردیتے ہیں۔‘‘ نیز، زیرِ نظر کتاب میں ’’فن کارانہ خود اعتمادی اور صدیق راز‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر کا بھی ایک مضمون شامل ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید