مصنف: جمیل اطہر قاضی
صفحات: 560 ، قیمت: 6000
ناشر: بک ہوم، 46 مزنگ روڈ، لاہور۔
فون نمبر: 4208780 - 0301
زیرِنظر کتاب کے مصنّف کا شمار پاکستان کے سینئر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے، وہ کم و بیش 70 برس سے میدانِ صحافت میں سرگرمِ عمل ہیں۔ کئی قومی اخبارات میں بڑے بڑے عہدوں پرفائز رہے۔ اُن کی زندگی گویا جہدِمسلسل سے عبارت ہے، عملی زندگی کا آغاز ایک ’’اخبار فروش‘‘ کی حیثیت سے کیا، نیوز ایجنٹ رہے، نامہ نگاری بھی کی۔
سب ایڈیٹر، اسٹاف رپورٹر، نیوز ایڈیٹر، پھر ایڈیٹر بنے اور ان تمام عہدوں کے ساتھ مکمل انصاف کیا۔ خُود بھی کئی جریدے اور اخبارات نکالے، حکومتِ پاکستان نے اُن کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں ’’تمغۂ امتیاز‘‘ بھی عطا کیا۔ جمیل اطہر قاضی سی پی این ای کے صدر اور اے پی این ایس کےسینئر نائب صدر بھی رہے۔
اُن کا شمار اُن صحافیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے ادب کو بھی ذریعۂ اظہار بنایا۔ ان کی پہلی کتاب ’’شیخِ سرہند‘‘ تھی، جوحضرت مجدّد الف ثانی کی تعلیمات اور زندگی پر مبنی ہے، دوسری کتاب ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ کے نام سے شائع ہوئی، جس میں اُن اصحاب کا تذکرہ ہے، جن کی زندگی کے مختلف گوشوں نے اُنہیں متاثر کیا، زیرِنظر کتاب،137 عنوانات پر مشتمل ہے اور اس میں ان کی صحافتی زندگی کے تمام گوشے موجود ہیں۔
مثلاً صحافت کی تاریخی حیثیت کواجاگرکیا ہے ، تو ادب، سیاست اور بین الاقوامی حالات کا بھی بھرپور جائزہ پیش کیا ہے۔ پھر ہر شعبۂ زندگی کی قابلِ ذکر شخصیات سے متعلق اُن کی تحریریں بھی معلومات افزا اور توجّہ طلب ہیں۔ یعنی مختلف جہتوں نے اِس کتاب کو ایک تاریخی دستاویز بنا دیا ہے۔ یہ کتاب صحافت کا سرنامہ بھی ہے، سیاست کا منظر نامہ بھی اورسماجی و معاشرتی زندگی کا آئینہ بھی۔
نیز، مصنّف کا اندازِ بیاں بھی نہایت پُرتاثیر ہے، جو قاری کو اپنے ساتھ لےکر چلتا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب معلومات کا ایک خزانہ ہے، جس پر بہت تفصیل سے لکھا جاسکتا ہے، لیکن اختصار ہماری مجبوری ہے۔ مصنّف نے’’میری داستان‘‘ کے عنوان سے جو پیش لفظ لکھا ہے، وہ بھی انتہائی جامع اور متاثرکُن ہے۔ المختصر، کتاب تاریخ، ادب، صحافت اور سیاست کے طالب علموں کے لیے ایک تحفہ ہے، جس سے بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے۔