• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر: ابوالفطرت میر زیدی

صفحات: 771، قیمت: 3000

ناشر: الحمد پبلی کیشنز، رانا چیمبرز (چوک پرانی انارکلی) لیک روڈ، لاہور۔

دبئی میں مقیم معروف جواں فکر شاعر اور ادبی تقریبات کے بہترین آرگنائزر، تابش زیدی نے اپنے دادا ابوالفطرت میر زیدی کی کلیات شائع کرکے سعادت مندی کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ گم شدہ اوراق کو یک جا کرکے کتابی صُورت دینا کوئی معمولی بات نہیں اورتابش زیدی نے یہ فرض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے۔

ابو الفطرت میر زیدی 10 اگست 1919ء کو ضلع مظفر نگر (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ 1982ء میں اُن کا انتقال ہوا، اُنہوں نے63 برس عُمر پائی۔زیرِنظرکلیات میں تابش زیدی نے ابوالفطرت میر زیدی کے جن شعری مجموموں کو شامل کیا، اُن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔

بادۂ فطرت (1937ء)، مینائے فطرت (1952ء)، شعلۂ فطرت (1952ء)، بہارِفطرت (1981ء)، فنون فطرت(1983ء) میخانۂ فطرت (1985ء) پیامِ فطرت (1985ء)۔ ہرنسل اپنے آبائو اجداد کی مادی اور مالی وراثت قبول کرنے میں تو کسی قسم کے تامل کا مظاہرہ نہیں کرتی، مگر ان کے علمی وادبی وَرثے کی حفاظت اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ خال خال ہی انجام دیا جاتا ہے، غالباً اِسی احساس کے پیشِ نظر تابش زیدی نے اپنے دادا، ابوالفطرت میر زیدی کے کلیات کی تدوین کا بیڑا اُٹھایا۔

بلاشبہ میر زیدی اپنے دَورکے کہنہ مشق استاد شاعر تھے اور ان کے کلام سے بھی اُن کی قادرالکلامی عیاں ہے۔ زیرِنظر کتاب میں علامہ انور صابری دیوبندی، رئیس امروہوی، ڈاکٹر جمیل جالبی، شوکت واسطی اور ڈاکٹر توصیف تبسم جیسی یگانۂ روزگار ادبی شخصیات کے توصیفی مضامین شامل ہیں، تو اس سے بھی کتاب کی اہمیت و افادیت کا انداہ لگایا جاسکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید