کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے، ڈبلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حوثی چاہتے ہیں ہم اس تنازع سے دور رہیں، فی الحال ہم بھی ایسا ہی کریں گے، حوثی ایک ملک سے خوش نہیں، وہ بیشتر جہازوں کو گزرنے دے رہے ہیں، بس ایک ملک ایسا ہے جس سے وہ زیادہ خوش نہیں ہیں، اور ہم اس معاملے کو بھی سیدھا کر لیں گے،دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو "علاقائی تھانیدار" کے طور پر امریکا کی ضرورت نہیں ہے، ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کےدوران انہوں نے کہا کہ خطے کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کی ضمانت صرف اس کے اہم اور اس میں شامل ممالک ہی دے سکتے ہیں،ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نےایرانی ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان مفاہمت کا مطلب آبنائے ہرمز کا فوری طور پر کھلنا نہیں ہے، تاہم یہ ان بنیادوں کو استوار کرتی ہے جن کے تحت اسے دوبارہ کھولا جا سکتا ہے ،ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک بے سود ہیں جب تک واشنگٹن تہران کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا، عراق سے ڈرونز حملوں کے بعد سعودی پائپ لائن بند کردی گئی، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی عرب کی بحیرۂ احمر تک جانے والی ایک اہم تیل پائپ لائن عراق سے آنے والے کئی ڈرونز کے حملے کے بعد بند کردی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر ہونے والے اس فضائی حملے کا ذمہ دار غالباً ایران ہے جس کے نتیجے میں اس کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن معطل ہو گئی ہے،انہوں نے بتایا کہ ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات ہوئی ہے جنہیں انہوں نے اپنا "ایک اچھا دوست" قرار دیا۔