• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مودی گجرات مسلم فسادات میں تشدد کا جزوی ذمہ دار ہے، رشدی

کراچی(رفیق مانگٹ) ایک انٹرویو میں ملعون ناول نگارسلمان رشدی نے بھارت میں ہندو قوم پرستی، اظہارِ رائے کی آزادی اور 2002 کے گجرات فسادات کے تناظر میں وزیراعظم نریندر مودی کے کردار سے متعلق سخت رائے کا اظہار کیا ہے-انہوں نے کہا کہ مودی گجرات مسلم فسادات میں تشدد کا جزوی ذمہ دار ہے، بھارت میں ہندو قوم پرستی بڑھتی جا رہی ہے، ازادی اظہار پر دباؤ بڑھ رہا ہے، بھارتی حکومت تاریخ کو مسخ کرکے ہندوؤں کو اچھا اور مسلمانوں کو برا دکھا رہی ہے ، اسی انٹرویو کے حوالے سے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے گزشتہ سال کے بیان کا بھی دوبارہ ذکر سامنے آیا، جس میں انہوں نے مودی کو “جنگی مجرم” قرار دیا تھا۔انٹرویو میں میزبان مارگریٹ ہوور نے ممدانی کے اس سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئےملعون سلمان رشدی سے سوال کیا کہ آیا وہ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ سلمان رشدی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مودی 2002 کے گجرات میں ہونے والے تشدد کے بعض حصوں کے ذمہ دار رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے جنگی مجرم کی اصطلاح سے احتیاط برتی اور کہا کہ چونکہ وہاں باقاعدہ جنگ نہیں تھی، اس لیے وہ اس اصطلاح کے استعمال سے اتفاق نہیں کرتے۔ رشدی کے مطابق، ان کے خیال میں مودی کے کردار میں انتہائی سخت اور ظالمانہ پہلو ضرور موجود تھا۔اسی انٹرویو میں رشدی نے بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادبی اور صحافتی حلقوں میں اس بات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ صحافیوں، مصنفین، دانشوروں اور پروفیسروں کی آزادی اظہار پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول میں تاریخی بیانیے کو ازسرنو تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔رشدی نے مزید کہا کہ ان کے مطابق بعض ریاستی اور فکری سطحوں پر ایسی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں جن میں بھارتی تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ ہندوؤں کو مثبت اور مسلمانوں کو منفی دکھایا جائے۔ انہوں نے آر ایس ایس اور ہندو قوم پرستی کے عالمی پھیلاؤ پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ایک منظم نظریاتی تحریک قرار دیا۔

اہم خبریں سے مزید