• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹنڈوآدم میں درندگی، 5 سالہ بچی زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل

ٹنڈوآدم (نامہ نگار) ٹنڈوآدم میں 5 سالہ معصوم بچی دعا کو مبینہ زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مبینہ زیادتی اور گلا دبانے کے باعث موت کی تصدیق ہوئی ہے، واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیاپوسٹ مارٹم کیلئے ورثاء کئی گھنٹے دربدر،اسپتال میں ڈاکٹروں کا نامناسب رویہ، پوسٹ مارٹم کیلئے سامان باہر سے لانےکو کہا گیا، ورثاء دلبرداشتہ ہوکر بچی کی لاش گھر لے گئے، خبر نشر ہونے پر پولیس حرکت میں آئی، مقدمہ درج کر گیا گیا،ورثاء نے وزیراعلی سندھ، آئی جی، ڈی آئی جی سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے،سٹی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سانگھڑ کے رشید اسٹاپ کے رہائشی مدرسے کے طالب علم قاسم ولد عبیداللہ کنڈاي کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوآدم کے رہائشی محمد آصف انصاری جمعہ کے روز نماز کی ادائیگی کیلئے اپنی 5 سالہ بیٹی دعا کے ہمراہ مدینہ العلوم، پرانے تبلیغی مرکز پہنچے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد بچی اچانک لاپتا ہوگئی، جس پر ورثاء نے مختلف مساجد میں اعلانات کرائے اور پولیس کو بھی اطلاع دی، تاہم بچی کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ بعدازاں گزشتہ شب تقریباً 8 بجے والد کو موبائل فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ مدینہ العلوم کے عقب میں قائم مدرسے کے احاطے سے ایک بچی کی لاش ملی ہے۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال منتقل کیا، جہاں مبینہ طور پر مناسب طبی سہولیات اور پوسٹ مارٹم کا سامان دستیاب نہ ہونے کے باعث ورثاء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ورثاء کے مطابق اسپتال میں ڈاکٹروں کے مبینہ نامناسب رویے اور پوسٹ مارٹم کیلئے سامان باہر سے لانے سمیت الٹراساؤنڈ بھی باہر سے کرانے کا کہا گیا، جس پر وہ دلبرداشتہ ہوکر بچی کی لاش گھر لے گئے۔ ذرائع کے مطابق میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد پولیس دوبارہ حرکت میں آئی اور بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کئی گھنٹے انتظار کے بعد رات تقریباً 3 بجے پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے دوران بچی سے مبینہ زیادتی اور گلا دبانے کے باعث موت کی تصدیق ہوئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں قاسم ولد عبداللہ کنڈہانی پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے، جو مدرسے کا طالب علم اور ضلع سانگھڑ کے علاقے رشید اسٹاپ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ مقتولہ بچی کے والد محمد آصف انصاری اور چچا ارشاد انصاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچی کے لاپتا ہونے کی اطلاع بروقت پولیس کو دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بچی کی حالت دیکھ کر پولیس نے لاش تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرانے کا کہا، تاہم اسپتال میں سہولیات نہ ہونے کے باعث ڈاکٹرز نے پوسٹ مارٹم کا سامان باہر سے لانے اور الٹراساؤنڈ بھی باہر سے کرانے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دلبرداشتہ ہوکر بچی کی لاش گھر لے آئے، بعدازاں پولیس سے دوبارہ رابطہ کرنے کے باوجود عملی اقدامات نظر نہیں آئے، جس کے باعث وہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کا سامان لے کر تعلقہ اسپتال پہنچے اور رات 8 بجے سے 3 بجے تک اسپتال میں بیٹھے رہنے کے بعد بچی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ مقتولہ کے ورثاء نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی شہید بینظیرآباد سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث ملزم کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید