اسلام آباد( رپورٹ:،رانامسعود حسین) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ تما م ادارے اپنے دائرہ اختیار میںذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں،ضلعی عدلیہ کے جج پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ فرائض انجام دیں ،عوام کے لیے بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں، انصاف کی حکمرانی اور بروقت فراہمی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز سپریم کورٹ میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ)کمیٹی کے زیر اہتمام "اصلاحات سے اعتراف تک: ایک فعال ضلعی عدلیہ کی تشکیل" کے عنوان سے منعقدہ نیشنل جوڈیشل ویل بیئنگ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدالتیں ہمارے نظام انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ملک بھر میں ایک جامع اور موثر عدالتی نظام قائم کرنے کے لیے عدلیہ کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا، ضلعی عدلیہ ، عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے کی اولین ترجیح رہے گی ،ججوں کی بہبود، ٹیکنالوجی کے استعمال، ادارہ جاتی احتساب اور عوام دوست سہولیات کی فراہمی پر کام جاری رہے گا، جس کا بنیادی مقصد عدلیہ کی فلاح و بہبود، ادارہ جاتی معاونت اورکہ ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا اعتراف تھا،کانفرنس میں سپریم کورٹ اور فیڈرل شرعی کورٹ کے ججوں، تمام صوبائی ہائی کورٹوں اور گلگت و بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹسز ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں، تمام صوبوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عدالتی افسران، بار کے نمائندوں اور شعبہ انصاف سے وابستہ دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی، چیف جسٹس پاکستان،یحیٰ آفریدی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ایک فعال اور موثر نظام انصاف کے لیے نہ صرف عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانا ضروری ہے بلکہ عدالتی افسران کو مکمل ادارہ جاتی تعاون، پیشہ ورانہ معاونت اور قدر و منزلت فراہم کرنا بھی لازمی ہے، عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا، یہ دیانت داری سے حاصل ہوتا ہے،عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے زمینی حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔