کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے گورنر ہاؤس پر جاری جماعت اسلامی کے دھرنے کے 28ویں دن ہفتےکو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف ملک بھر میں دھرنوں، 3ستمبر کی کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد احتجاج کے اگلے مرحلے میں 20ستمبر کو اسلام آبادمارچ میں کراچی سے بھی ہزاروں افراد شریک ہوں گے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا سندھ اسمبلی میں پیش کردہ سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026کا بنیادی مقصد قابض میئر کو سیاسی ایڈمنسٹریٹر بنا کر مدت ملازمت میں توسیع کرناہے، جماعت اسلامی اس بلدیاتی ترمیمی بل کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، پیپلز پارٹی نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہواہے اور اختیارات و وسائل نچلی سطح پر ٹاؤن اور یوسیز میں منتقل کرنے پر تیار نہیں ہے، ہمارا واضح اور دو ٹوک مطالبہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں، ٹاؤن اور یوسیز کو ترقیاتی فنڈز دیے جائیں، قابض میئر شہر میں اربوں روپے مالیت کی زمینوں کی بندر بانٹ کے اپنے منصوبے سامنے آنے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، پیپلز پارٹی اور قابض میئر نے گزشتہ روز جس فسطائیت اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے منتخب اراکین کونسل کو زدو کوب کیا ہے اس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ قابض میئر کو کے ایم سی کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی کی بندر بانٹ اور لوٹ مار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، گورنر ہاؤس پر جاری دھرنے کے شرکاء میں 28ویں روز بھی زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا جبکہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے بھی شرکاء تیار اور پر عزم نظر آئے، دریں اثناء دھرنا گاہ میں 11ستمبر، سانحہ بلدیہ فیکٹری کے حوالے سے بھی خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں شہداء کے اہل خانہ اور متاثرین بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تقریب سے منعم ظفر خان، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، پبلک ایڈ کمیٹی کراچی کے سیکریٹری نجیب ایونی، سانحہ بلدیہ فیکٹری متاثرین کے رہنما محمد صابر و دیگر نے بھی خطاب کیا،علاوہ ازیں امیر ضلع مفخر علی خان کی قیادت ملیر کا قافلہ لانڈھی اسٹیشن سے بذریعہ ٹرین کینٹ اسٹیشن پہنچا جہاں سے قافلے کے شرکاء پیدل مارچ کرتے ہوئے گورنر ہاؤس پہنچے، نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے ان کا استقبال کیا۔