• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی کے دفاتر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت نہیں، سیف ایڈووکیٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ عظمی کراچی کی سٹی کونسل میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ نے واضح کیا ہے کہ ادارہ نورحق سمیت جماعت اسلامی کے دفاتر بلدیہ عظمیٰ کی ملکیت نہیں!، ہم پیپلزپارٹی والے نہیں جو کسی بیوہ کے مکان پر قبضہ کرلیں،مرتضیٰ وہاب معافی مانگیں، ورنہ ہمیں قانونی چارہ جوئی کا حق ہے۔ وہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے ادارہ نورحق کی ملکیت کے حوالے سےلگائے گئے الزامات پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔سٹی کونسل میں قائد حزب اختلاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میئر کراچی اپنے الزامات ثابت کریں، بصورت دیگر مستعفی ہوجائیں! تاہم اگر میئر نے الزامات ثابت کردیئے تو وہ قائد حزب اختلاف کے عہدے سے مستعفی ہوجا ئیں گے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سٹی کونسل اجلاس کے ایجنڈے میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹائون اور کلفٹن کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور پلاٹ ٹھکانے لگا نے کی باریک کارروائی کی جارہی تھی،جماعت اسلامی کے منتخب ارکان نے اعتراض کیا تو مرتضیٰ وہاب بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور ادارہ نور حق کو کے ایم سی کی ملکیت قرار دے دیا، مگر اب وہ دروغ گوئی اور مکاری چھوڑ کر اپنے الزامات پر معافی مانگیں، ورنہ جماعت اسلامی قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پیپلزپارٹی والے نہیں جو کسی بیوہ کے مکان پر قبضہ کرکے دفاتر بنالیں، پیپلز پارٹی قائدین کالونی میں ہی واقع پیپلز سیکریٹریٹ کی ملکیت کے ثبوت پیش کرے! قابض میئر اپنے قریب ترین لوگوں کو قیمتی املاک فراہم کرنے کی کرپشن کا جواب نہیں دے سکے!اور اپنی کرپشن چھپانے کے لئے جماعت اسلامی پر الزام لگایا۔
اہم خبریں سے مزید