کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ4صوبوں کا نظام فلاپ، انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹ بننے چاہئیں۔ موجودہ نظام میں ملک نہیں چل سکتا،صوبوں کو چھوٹا کرنے کی ضرورت ہے، پی پی نے شہر تباہ کردیا،انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے ناگزیر ہوچکے۔ کراچی کو 7 اضلاع میں تقسیم کر کے جو کیا وہ پورے ملک میں کر دیں، اعتراض کیا ہے؟۔سندھ حکومت کی پانی کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نلکوں کا پانی ٹینکر مافیا کو بیچا جا رہا ہے، کے فور کا کوئی پلان نہیں، منصوبہ پونے دو ارب تک پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی ایکسپو سینٹر میں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد چار صوبوں کا نظام فلاپ ہوگیا ، یہ نظام کام نہیں کرپارہا ، لوگ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹوں کی حمایت کررہے ہیں۔ موجودہ نظام میں ملک نہیں چل سکتا، صوبوں کو چھوٹا کرنے کی ضرورت ہے، لاہور، کوئٹہ، پشاور ایک شہر اور ایک ضلع ہے، کراچی بھی ایک ضلع ہوتا تھا، واحد شہر ہے جس میں 7 اضلاع ہیں، جو کام کراچی میں کیا گیا ہے وہ پورے ملک میں کردیں ، اس میں اعتراض کیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کوئی بھی نہیں لڑے گا، سب آپس میں پیار اور محبت کے ساتھ رہیں گے، اگر اکثریت نے کہہ دیا کہ ملک میں انتظامی یونٹس نہ بنے تو نہیں بنیں گے، ایک ایسا نظام ہونا چاہئے کہ لوگوں کے ووٹ سے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نلکوں میں آنے والا پانی ٹینکر میں عوام کو بیچا جا رہا ہے، کےفور کا پانی شہر کے علاقوں میں کیسے جائے گا کوئی پلان نہیں، مجھے میئر بنے 18 سال ہوگئے ہیں، مصطفیٰ کمال کے خراب پلان کو درست کرنے کیلئے اور کتنا وقت چاہئے، کےفور پروجیکٹ پونے دو ارب روپے پر پہنچ گیا ہے، 260 ملین گیلن پانی ٹینکر مافیا تک جانے کا خدشہ ہے، یہ شہر پہلے سے کھدا ہوا ہے تو پہلے سے کے فور کے لئے لائن ڈال دیتے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسی وجہ سے پاکستان میں بھی لیوی ٹیکس بڑھا ہے، وفاقی حکومت کے جماعت اسلامی سے مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے لوگ مجھ سے ناراض ہیں، کارکردگی سے مطمئن نہیں، کیا ان کے پاس مجھے ہٹانے کا اختیار ہے؟ہر شخص کو جواب دوں ایسا نہیں ہو سکتا، اسپتال بنانا، پانی دینا یہ سب میرا کام نہیں۔ سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں حکومت کا گزشتہ چودہ ماہ کا کام گزشتہ تیس سال کے کام سے بہتر ہے، تاہم پاکستان کو صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لئے صرف اسپتالوں اور علاج پر انحصار کرنے کے بجائے بیماریوں سے بچاؤ، صاف پانی، ویکسینیشن، غذائیت اور خاندانی منصوبہ بندی پر توجہ دینا ہوگی۔