• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی جماعت کو سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ، PTI لانگ مارچ کیخلاف درخواست پر فیصلہ

اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی لارجر بنچ نے تمام صوبائی حکومتوں کو اسلام آباد کی طرف احتجاج، ریلی یا لانگ مارچ کیلئے سرکاری مشینری اور وسائل استعمال نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوران سماعت عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان سے احتجاج سے متعلق جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو کیا اسے روکا جائیگا؟ آئی جی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی غیر قانونی اقدام یا پیش قدمی ہوئی تو اسے ہر صورت روکا جائیگا۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شخص، سیاسی جماعت، سیاسی قیادت یا پبلک آفس ہولڈر کو سڑکیں، کاروبا بند کرنے اور ٹول پلازے یا عمارتوں پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، جس سے عام آدمی کی نقل و حرکت متاثر ہو، یا اسکول اور ہسپتال تک رسائی ممکن نہ رہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی چیف سیکرٹریز اور وزرائے اعلیٰ اس بات کو یقینی بنائیں کہ احتجاج میں سرکاری مشینری، سرکاری گاڑیاں، سرکاری فنڈز یا سرکاری افسران احتجاج میں استعمال نہ ہوں، کسی سرکاری ملازم کو مارچ، جلوس یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے، کوئی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی پر زبردستی مجبور کرنے والے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرے، اگر کسی افسر کو مجبور کیا جائے تو وہ صوبائی چیف سیکرٹری کو بتائے، اسلام آباد میں ایسی صورت میں چیف کمشنر یا آئی جی کو مطلع کیا جائے، صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرلز فوری طور پر ہیلپ لائن قائم کریں۔ افسران اپنے ماتحتوں کو اسلام آباد کی طرف احتجاج یا مارچ میں شریک نہ ہونے دیں۔ اسلام آباد انتظامیہ اور وزارت داخلہ شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

اہم خبریں سے مزید