کراچی (اسٹاف رپورٹر) جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ڈاکٹر سمیعہ نے میر رضا کیس سے متعلق اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کرا دیا۔ ڈاکٹر سمیعہ نے قبر کشائی، پوسٹ مارٹم، سیمپلز اور لاش پر موجود مبینہ نشانات سے متعلق کمیشن کو آگاہ کیا، ڈاکٹر سمیعہ نے کہا مجھے دھمکیاں دی گئیں، دو دن تک پیچھا کیا گیا، کہا گیا خودکشی لکھ دیں تو ہلکا ہاتھ رکھا جائے گا، زندگی میں پہلی بار کیمیکل ٹارچر کا کیس دیکھا ہے، میر رضا کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے، زخم زندہ حالت میں لگائے گئے، جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات بھی تھے، نشانات سے پتہ چلتا ہے پیچھے گولی لگ کر دل میں لگ باہر نکل رہی ہے، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کا بیان بھی قلم بندکرلیا گیا ،کمیشن کے روبرو پیش ہونے والے ایس ایچ او عدیل افضال کئی سوالات کے تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ڈاکٹر سمیہ کو بیان کیلئے طلب کیا گیا۔ ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ سیمپلز کو روانہ کرنے میں تاخیر کی صورت میں نتائج متاثر ہوسکتے ہیں اور مختلف اقسام کے پوائزن بڑھنے یا رپورٹ منفی آنے کا امکان ہوتا ہے،ڈاکٹر سمیہ کے مطابق 8 اگست کو انکے منتخب کردہ میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی میں حصہ لیا، جبکہ قبر کشائی کے دوران تمام ہڈیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مجموعی طور پر 263 تصاویر بنائی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ قبر کشائی کے دوران لاش پر گولی لگنے اور نکلنے کے نشانات واضح طور پر موجود تھے۔ چھٹی پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور ہڈی کی سمت سے ظاہر ہوتا تھا کہ گولی پیچھے سے لگی اور سامنے سے نکلی۔ڈاکٹر سمیعہ نے لاش پر موجود نشانات کو ڈی کمپوزیشن کے بجائے کیمیکل برن قرار دیا۔ انکے مطابق ہاتھوں پر موجود خشک نشانات جسمانی ڈی کمپوزیشن کے نہیں بلکہ کیمیکل برن کے تھے، جبکہ لیبارٹری رپورٹ سے بھی ایسڈ کے حوالے سے نتائج کی تصدیق ہوئی۔ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ میر رضا کے جسم سے نشہ آور دوا کے شواہد بھی ملے ہیں۔ انکے مطابق دل اور مختلف اعضاء سے لیے گئے سیمپلز لیبارٹری بھیجے گئے تھے،ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا تھا کہ کیس میں تین چیزیں واضح ہیں، جن میں نشہ آور دوا، ایسڈ برن اور گولی کا پیچھے سے لگنا شامل ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے وقت اگر وہ خود معائنہ کرتیں تو موت کی وجہ کے بارے میں زیادہ واضح طور پر بتا سکتی تھیں۔