• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی متعصبانہ پالیسی، خواتین ایشیا کپ کا فائنل سیاست کی نذر


دبئی (عبدالماجد بھٹی) بھارت کی متعصبانہ پالیسی نے کرکٹ کو بھی داغ دار کر دیا۔ خواتین ایشیا کپ کا فائنل سیاست کی نذر ہوگیا۔بی سی سی آئی نے محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا، عہدیدار فائنل میں موجود رہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری دیوا جیت سائیکیا نے اعتراف کیا کہ مسئلہ صرف ٹرافی پیش کرنیوالا تھا، متبادل کے طور پر ڈپٹی چیئرمین کی تجویز دی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری دیوا جیت سائیکیا کا کہنا ہےکہ ’ہماری ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی اس لئے وصول نہیں کی، کیونکہ وہ پاکستان کی حکومت کے مرکزی لیڈر ہیں اور ہمارے ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ہم نے گذشتہ برس یہ فیصلہ لیا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز نہیں کھیلیں گے۔ لیکن ٹورنامنٹس میں ہر ٹیم کے ساتھ کھیلیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ساری شرائط مان لیں گے۔پیر کو ایک سے زائد انٹرویو میں بھارتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے احترام یکجہتی اور ناقابل سمجھوتہ حالات کا معاملہ قرار دیا ہے۔لیکن خود سائیکیا کی وضاحت جواب دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کرتی ہے اور فائنل میں بی سی آئی کے دو اعلی عہدیداروں کی موجودگی اس موقف کو مزید متضاد بنادیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اے سی سی کو اپنے موقف سے فائنل سے قبل اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا تھا۔تاہم بی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا اور سیکرٹری سائیکیا دونوں فائنل میں موجود تھے اور جب دیپتی شرما نے کاؤشینی نوتھیانگانا کو آؤٹ کیا اور بھارت ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم کے طور پر فاتح بنا تو دونوں نے محسن نقوی سے مبارک باد بھی وصول کی تھی۔یہ اے سی سی کا سب سے اہم براعظمی ٹورنامنٹ تھا، جو اسی تنظیم کے اختیار کے تحت منعقد ہوا جس کے سربراہ محسن نقوی ہیں۔
اہم خبریں سے مزید