کوئٹہ (طاہر خلیل) بلوچستان سیاسی اور عسکری قیادت یکسو ، آئین شکن ریاست مخالف عناصر سے بات نہیں ہو گی ، ہر طبقے سے ڈائیلاگ جاری ہے ، دو روز قبل اسلام آباد اور لاہور کے سینئر صحافیوں اور اینکرز کو آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک خصوصی اہتمام کے تحت کوئٹہ لے جایا گیا جہاں سیکورٹی حکام اور صوبے کی سیاسی قیادت کی جانب سے الگ الگ بریفنگز میں صوبے میں فتنہ الہندوستان اور ریاست مخالف عناصر کیخلاف جاری کا رروائیوں، فرسودہ قبائلی نظام کی خرابیوں، صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عمومی لا اینڈ آرڈر صورتحال پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ،سیکورٹی حکام نے 3 گھنٹے سے زیادہ دیر تک صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیا، اس بات پر ہر کوئی متفق ہے کہ 9.99فیصد بلوچ محب وطن اور ہتھیار اٹھانے والوں سے نمٹنے کے حامی سیکورٹی حکام کلیئر ہیں کہ فرسودہ نظام کے حامی سرداروں سے ڈائیلاگ نہیں ہوگا،ڈائیلاگ صوبے کے عام لوگوں سے ہو رہا ہے، سیکورٹی حکام نے نہایت تفصیل سے اعداد و شمار بتائے کہ سال گزشتہ میں 54 ہزار ملاقاتیں ہوئی اور ڈائیلاگ سیشن ہوئے اور رواں سال اب تک 34 ہزار ڈائیلاگ سیشن ہو چکے ہیں ، عوامی مسائل کے حل کیلئے قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ،بعد میں صوبائی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے ایک الگ نشست میں بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بہتر نظم و نسق اور اچھی طرز حکمرانی کیلئے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے حق میں ہیں ،کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے صوبے کو کنٹرول نہیں ہو سکتا۔