لاہور (نمائندگان جنگ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پیر کی رات لاہور پہنچ گئے۔ پولیس پر اغوا کرنے کا الزام ۔جاں بحق کارکن کے گھر جاکر اہل خانہ سے تعزیت، کارکنوں کی گرفتاریوں پر سہیل آفریدی احتجاجاً پولیس موبائل میں جا بیٹھے۔ کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل ، تلخ کلامی۔وزیر اعلیٰ کا پنجاب پولیس کی سیکیورٹی لینے سے انکار۔سہیل آفریدی کی آمد کے سلسلہ میں پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے احتجاج اور جلوسوں کو روکنے کیلئے پولیس نے اکثر جگہوں پر رکاوٹیں اور ناکے لگائے ہوئے تھے پولیس جہاں بھی انہیں روکتی تو وزیر اعلی ان سے تکرار کرتے انہیں آگے نہ جانے دیتے تو وزیر اعلیٰ سڑک پر ہی دھرنا دے دیتے ۔سہیل آفریدی تحریک انصاف کے جاں بحق ہونے والے کارکن اشتیاق کے گھر پہنچے۔اہل خانہ سے تعزیت کی اور اسکی مغفرت کیلئے دعا کی ۔ اس موقع پر انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔بعد ازاں وہ جلوس کی شکل میں مال روڈ کی طرف روانہ ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد انکے ساتھ چلنے لگی وہ مسلسل حکومت اور پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے پولیس نے کارکنوں اور لیڈر شپ کو گرفتار کیا تو سہیل آفریدی بھی پولیس کی ایک گاڑی میں بیٹھ گئے تو ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی تو شو ر مچ گیا کہ وزیر اعلیٰ کو اغو کر لیا گیا تاہم پولیس نے تھوڑی دور جا کر انہیں گاڑی سے اتار دیا سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ کہ انہیں کسی کے کہنے پر اغوا کیا گیا مال روڈ پر احتجاج جاری رہا پولیس نے متعدد پارٹی راہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔