کراچی (بابر علی اعوان) پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے چیف سیکریٹری سندھ کو خط لکھ کر کراچی میں تعینات صوبائی ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، غیرقانونی مطالبات، ادویات کا اسٹاک ضبط کرنے، فروخت پر پابندی عائد کرنے اور جھوٹے الزامات و مقدمات کے ذریعے فارما کمپنیوں اور ان کے ڈسٹری بیوٹرز کو ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے۔ 10 ستمبر کو چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کے نام ارسال کیے گئے خط میں پی پی ایم اے نے کہا ہے کہ مذکورہ ڈرگ انسپکٹر مبینہ طور پر ڈرگ ایکٹ 1976 کی دفعات 18 اور 19 کے تحت معائنہ، سیمپلنگ اور ادویات کے تجزیے کے قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور سرکاری تجزیہ کار کی رپورٹ یا کسی جرم کے ثبوت کے بغیر کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ مبینہ غیرقانونی مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں اسٹاک ضبط، فروخت روکنے اور قانونی کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہے۔ پی پی ایم اے نے اسے محکمہ صحت کے ریگولیٹری نظام اور ایک سرکاری افسر کے فرائض کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق فارماسیوٹیکل صنعت میں ملک بھر میں تقریباً 750 مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔