31ویں برسی پرحبیب الدین جنیدی کی خصوصی تحریر پوری دنیا کی طرح پاکستان کی مزدور تحریک بھی اس کے کارکنان اور قائدین کی پر عزم جد و جہد اور قربانیوں سے معمور ہے۔ امریکہ کے شہر شکاگو میں 1886کی تاریخ ساز جدوجہد کہ جس نے مزدوروں کی طاقت کا لوہا عالمی سطح پر منوایا تھا۔ ہمارے ملک میں صنعتی مزدوروں کی طرح وائٹ کالر محنت کشوں کی جدو جہد بھی نمایاں رہی ہے۔ بینکنگ انڈسٹری کے ٹریڈ یونین رہنماؤں میں ایک نہایت نمایاں نام شہید عثمان غنی کا ہے، جنہیں 17 ستمبر 1995 ء کراچی میں ان کی رہائش گاہ کے قریب دہشت گردوں نے شہید کر دیا۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز عثمان غنی نے مسلم کمرشل بینک لمیٹڈ کی ملازمت سے کیا۔ نوجوان عثمان غنی میں چونکہ قائدانہ صلاحیتیں اوائل عمری سے موجود تھیں، لہذا وہ بہت جلد بینک کے ملازمین میں مقبول ہوئے اور سی بی اے یونین کے صدر منتخب ہو گئے۔ یہاں سے ہی شہید کی مزدور تحریک سے وابستگی کا آغاز ہوتا ہے جو کہ ان کی آخری سانس تک قائم رہا۔عثمان غنی ایک جمہوریت پسند سیاسی کارکن بھی تھے اور اپنے آبائی علاقہ چنیسر گوٹھ میں وہ پی پی پی کے ایک نہایت متحرک رہنما کے طور پر مقبول ہوئے تھے۔ شہید بینظیر بھٹو کی قیادت میں انھوں نے جمہوریت کی بحالی کی ہر تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور قربانیاں دیں ۔ عثمان غنی نے مسلم کمرشل بینک کی سی بی اے یونین کے صدر اور پاکستان بینکس ایمپلائز فیڈریشن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت میں ملازمین کے حقوق کے حصول کے لیے انتہائی دلیری کے ساتھ بے بہا قربانیاں دیں ، جیلیں بھگتیں مگر اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ نجکاری کے خلاف پاکستان کی ٹریڈ یونینز کا ایک ملک گیر اتحاد آل پاکستان اسٹیٹ انٹر پرائزز ورکرز ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا، جس کے تحت 160 سی بی اے ٹریڈ یونینز نے ایک روز کی علامتی ہڑتال ملک بھر میں کی ۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ PPP کی ذیلی تنظیم " پیپلز لیبر بیورو" کے قیام کے لیے شہید بینظیر بھٹو کو قائل کرنے کا انتہائی اہم کردار شہید عثمان غنی اور عبد العزیز میمن نے ادا کیا تھا۔ آج ہم عثمان غنی کی شہادت کی اکتسویں برسی منا رہے ہیں اور ان کی یاد کو اس لیے بھی تازہ کر رہے ہیں کہ وہ ایک شریف النفس، با تہذیب اور تعلیم یافتہ ایک ایسے مزدور رہنما تھے کہ جنہوں نے اپنے ادارے کی مزدور انجمن کے انتخابات میں کبھی شکست نہیں کھائی۔ انہوں نے اپنے حریفوں سے بھی کبھی انتقام نہیں لیا بلکہ درگزر سے کام لیا۔ عثمان غنی کے ہونہار فرزند سینیٹر سعید غنی نے اپنے شہید والد کی مشعل کو پورے جوش و جذبے کے ساتھ تھام رکھا ہے۔ PPP کے ایک مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر محنت کی حیثیت سے مظلوم محنت کش عوام کے دکھوں کے مداوا کے لیے وہ بحیثیت وزیر محنت وہ تمام اقدامات اٹھا رہے ہیں جو ممکن ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ PPP کی صوبائی حکومت اور بحیثیت وزیر محنت سعید غنی کی موجودگی میں انشاء اللہ تعالیٰ صوبہ سندھ میں جو بھی قانون سازی ہوگی وہ محنت کشوں کے حق میں ہوگی۔