• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

را اور طالبان کا مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک پراکسی گروہوں کے ذریعے سرگرم، انٹیلی جنس ذرائع

اسلام آباد (ایاز اکبر یوسف زئی)را اور طالبان کا مبینہ دہشت گرد نیٹ ورک پراکسی گروہوں کے ذریعے سرگرم، انٹیلی جنس ذرائع؛ بھارت اپنی سرزمین پر علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسند تشدد کی پشت پناہی کیلئے افغان علاقے کا استعمال کرتا ہے، پاکستان کا مؤقف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی سرپرستی میں چلنے والا دہشت گردوں کا وہ نیٹ ورک ،جو افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے کام کر رہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردانہ حملوں کی تربیت، پناہ اور مالی اعانت کے لیے افغان سرزمین کو بطور لانچ پیڈ استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان برسوں سے یہ مؤقف رکھتا رہا ہے کہ بھارت اپنی سرزمین پر علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسند تشدد کی پشت پناہی کے لیے افغان علاقے کا استعمال کرتا ہے۔ اسلام آباد نے یہ معاملہ سفارتی فورمز پر بارہا اٹھایا ہے اور اپنے ڈوزیئرز کے ذریعے اس کے ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔ بھارت اور افغانستان میں طالبان حکومت دونوں ہی ماضی میں ایسے تمام الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ تاہم دی نیوز کی جانب سے اس ہفتے جائزہ لیے گئے ایک خفیہ دستاویز میں اس سے کہیں آگے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ دستاویز میں ایک ایسے مکمل طور پر فعال نیٹ ورک کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جس کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغانستان کے انٹیلی جنس نظام اور طالبان حکومت کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ایک مستقل انتظام موجود ہے، جس کے تحت پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے لیے تربیت، مالی معاونت اور پناہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔پاکستان کے مطابق، اس مبینہ انتظام کے مرکز میں موجود پراکسی گروہوں میں بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان شامل ہیں۔ دستاویز کے مطابق، بیرون ملک سے ان گروہوں کو رقم، تربیت اور پناہ فراہم کی جاتی ہے، جس کا واحد مقصد پاکستان میں بدامنی اور تشدد کو ہوا دینا ہے۔ ایک مزید حیران کن انکشاف میں، دستاویز میں بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم القاعدہ برصغیر کو بھی اسی مبینہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جسے پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ پاکستانی سیکورٹی اداروں کی جانب سے جمع کی گئی انٹیلی جنس کے مطابق، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا مبینہ گٹھ جوڑ 2025 کے لگ بھگ وجود میں آیا، جس کی بنیاد افغانستان میں پہلے سے قائم تربیتی کیمپوں پر رکھی گئی تھی۔ ان کیمپوں کو افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کی حمایت حاصل تھی۔ دستاویز میں پیش کیے گئے۔

اہم خبریں سے مزید