• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایشین گیمزمیں پاکستان کی ناقص کارکردگی، ٹیموں کا انتخاب سوالیہ نشان

ناگویا (نمائندہ خصوصی)ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص کار کردگی اور ٹیموں کاانتخاب سوالیہ نشان بن گیا۔گیمز کے لئے حکومت کی جانب سے محدود کھلاڑیوں کو اسپانسر کیا گیاجبکہ بیشتر فیڈریشنوں کی جانب سے کھلاڑیوں سے لاکھوں روپے وصول کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایشین گیمز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص کار کردگی اور ٹیموں کاانتخاب سوالیہ نشان اور حکومت حکام کی آنکھیں کھولنے کے کافی اہم بن گیا ہے، گیمز کے لئے حکومت کی جانب سے محدود کھلاڑیوں کو اسپانسر کیا گیا، جبکہ جن کھیلوں کو پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے سپوٹ کیا ان میں بیشتر فیڈریشنوں نے کھلاڑیوں سے سفری اخراجات اور رہائش کی مدد میں لاکھوں روپے وصول کئے۔، ایشین گیمز میںسافٹ ٹینس کی مردوں کی ٹیم کو فلپائن،کمبوڈیا اور جاپان کے خلاف، جبکہ خواتین ٹیم کو ،کوریا،جاپان اور کمبوڈیا کے ہاتھوں یکطرفہ ناکامی کا سامنا کرنا پرا۔سافٹ ٹینس کی ٹیموں کے انتخاب کے حوالے سے کئی شکایات سامنے آئی ہیں،جس میں کہا جارہا ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کے دوکھلاڑیوں اور کھیلوں کے ٹیچر کو مالی معاونت کرنے پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔اسی طرح ٹیبل ٹینس میں کھلاڑیوں کو ذاتی اخراجات پر ٹیم کا حصہ بنایا گیا جس کے عوض ان سے لاکھوں روپے لئے جانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

اسپورٹس سے مزید