کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر اہتمام تعلیمی مکالمے کے چھٹے سیشن میں تعلیمی و امتحانی نظام کو مزید مؤثر، شفاف، منصفانہ اور طلبہ مرکز بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور تعلیمی اصلاحات، امتحانی عمل میں شفافیت، میرٹ کے فروغ اور معیاری تشخیص سے متعلق تجاویز پیش کیں چیئرمین محمد اسحاق نے بتایا کہ انہوں نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی بورڈ میں اصلاحات کا مرحلہ وار آغاز کیامختلف کمیٹیوں کو بااختیار بنایا گیا بورڈ کا 1975ء سے 2015ء تک کا دستیاب ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیا گیاجبکہ گزشتہ 50 سال کا ریکارڈ بورڈ کی ویب سائٹ پر مرحلہ وار اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہےان کے مطابق طلبہ کی رہنمائی کے لیے گزشتہ سال کے پوزیشن ہولڈرز کے حل شدہ پرچے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے گئے ہیںجبکہ معیاری مارکس پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے نقل کے خلاف روایتی سخت سزاؤں کیبجائے اصلاحی طریقہ اختیار کیاگیا ہے اسناد کی تصدیق کے لیے فول پروف ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہےجس کے ذریعے سرکاری محکمے براہ راست بورڈ سے اسناد کی تصدیق کرا سکیں گے۔