• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں توانائی کا بحران اور خیبر پختونخوا کے آبی وسائل کے موضوع پر رپورٹ

پشاور (خصوصی نامہ نگار) خیبر پختونخوا میں پانی کے وافر وسائل کے باوجود صوبہ دریائے سندھ کے نظام کے تحت مختص اپنے پانی کا مکمل حصہ استعمال نہیں کر پا رہا، جبکہ پاکستان میں ہر سال سیلابی موسم کے دوران تقریباً 25 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہوتا ہے۔ یہ انکشاف انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) پشاور میں ’’پاکستان میں توانائی کا بحران اور خیبر پختونخوا کے آبی وسائل‘‘ کے موضوع پر ماہرین کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے لئے1991 کے ارسا معاہدے کے تحت تاریخی طور پر دریائی پانی میں سے 5.78 ملین ایکڑ فٹ پانی مختص کیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں تعمیر ہونے والے ذخائر اور سیلابی پانی میں صوبے کے لئے مزید 14 فیصد حصہ مقرر ہے، تاہم ناکافی انفراسٹرکچر کے باعث صوبہ اپنے حصے کے پانی سے مکمل استفادہ نہیں کر پا رہا۔رپورٹ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال کے لئے مختص 0.78 ملین ایکڑ فٹ پانی بھی 1991 کے معاہدے کے بعد سے استعمال نہیں کیا جا سکا، جبکہ اس منصوبے کو فنڈنگ اور عملدرآمد سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں پانی کا تقریباً 96 فیصد حصہ زراعت، 2 فیصد صنعت اور مزید 2 فیصد گھریلو و دیگر استعمال میں خرچ ہوتا ہے۔
پشاور سے مزید