• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک انصاف کا مجوزہ مارچ، پس پردہ رابطے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے میں ناکام

انصار عباسی

اسلام آباد:…پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27؍ ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال برقرار رکھنے کے باعث، پارٹی قیادت اور حکام کے درمیان حالیہ رابطے کسی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے، جس کی بنیادی وجہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان ہے۔ یہ بات مذاکرات سے آگاہ ذرائع نے بتائی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مجوزہ مارچ کے باعث بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے ان رابطوں میں اس امکان پر بات چیت ہوئی کہ اگر پی ٹی آئی 27؍ ستمبر کی احتجاجی سرگرمی منسوخ کرنے پر آمادہ ہوجائے اور اس امر کی یقین دہانی کرائے کہ آئندہ طویل دھرنوں، سڑکوں کی بندش یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ براہِ راست تصادم پر مبنی احتجاجی حکمت عملی اختیار نہیں کرے گی تو صورتحال کو کشیدہ ہونے سے بچانے کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔ مذاکرات سے واقف افراد کے مطابق، حکام نے یہ موقف پیش کیا کہ ایسی یقین دہانی بعض معاملات میں رعایت یا نرمی کی راہ ہموار کرسکتی ہے، جن کا تعلق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کے خاندان سے ہے۔ ان معاملات میں بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کرنے پر غور، عمران خان کو طبی علاج کیلئے اسپتال منتقل کرنے کے انتظامات اور ان سے ملاقاتوں میں مزید سہولت فراہم کرنا شامل تھا۔ تاہم، مجوزہ نرمی کو اس مفاہمت سے مشروط کیا گیا تھا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو دستیاب سہولیات کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ قابل اطلاق قواعد کے مطابق عمران خان سے ملاقاتوں میں سہولت فراہم کی جاسکتی ہے، تاہم جیل سے سیاسی تحریک یا سیاسی سرگرمی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ تاہم، ان مذاکرات سے کوئی معاہدہ طے نہیں پاسکا اور دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا۔ حالیہ پیش رفت سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ 27؍ ستمبر کیلئے پی ٹی آئی کی عملی احتجاجی حکمت عملی شاید خیبر پختونخوا میں زیادہ مرکوز ہو، جبکہ ملک گیر احتجاج کے حوالے سے پارٹی کی عوامی سیاسی بیان بازی سے بظاہر اس کی وسعت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، پارٹی کی بنیادی احتجاجی سرگرمی خیبر پختونخوا سے متوقع ہے، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں کارکنوں کو عموماً اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کرنے کیلئے کہا گیا ہے، کیونکہ ان صوبوں میں نسبتاً زیادہ پابندیاں اور انتظامی دباؤ موجود ہے۔ تاہم، خیبر پختونخوا سے متصل پنجاب کے علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی احتجاجی تحریک کو خیبر پختونخوا کی مہم کے ساتھ مربوط کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی اسلام آباد تنظیم کو وفاقی دارالحکومت کے اندر سے آزادانہ طور پر بڑا جلوس نکالنے کے حوالے سے کوئی مخصوص ہدایت نہیں دی گئی۔ متوقع مارچ کا بنیادی زور خیبر پختونخوا سے ہوگا، جبکہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کس انداز میں ہوگی، اس کا انحصار زمینی صورتحال پر ہوگا۔ تاہم، عوامی سطح پر پی ٹی آئی رہنما بدستور اصرار کررہے ہیں کہ 27؍ ستمبر کا پروگرام ہر صورت آگے بڑھے گا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بارہا کہہ چکے ہیں کہ تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس مارچ کو عمران خان کی رہائی اور اپنے دیگر سیاسی مطالبات کیلئے جاری مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج کے دوران قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید