اسلام آباد (عاطف شیرازی) کورم پورا نہیں تو سینڈیکیٹ کیسے کی،سینیٹ کمیٹی کا ضابطہ شنواری سے سوال،جلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق ایجنڈے پر بھی بحث ہوئی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضابطہ خان شنواری نے بتایا کہ ہم نے سینیٹ کا اجلاس نہیں کیا، صرف سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا ، کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ اگر آپ کے پاس کورم پورا نہیں تو اجلاس کیسے کیا، ارکان نے کہا کہ آپ یہ بھی نہیں بتا رہے کہ سینیٹ کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ سینیٹ کی میٹنگ شاید نہ بھی ہو، نئے سینیٹ کے ارکان کے نام چند روز میں وزارت کو بھجوا دینگے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ پورا سال ہونے والا کام سنڈیکیٹ سے منظوری لینا ہوتی ہے، جبکہ ملک سے باہر موجود ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتے،چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ یونیورسٹی کو کمیٹی کے سامنے آکر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن یونیورسٹی نے خط لکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم کی عدم شرکت پر چیئرپرسن سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کمیٹی اجلاس سے ایک گھنٹہ قبل بتا دیا جاتا ہے کہ وزیر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے، اجلاس میں الخیر یونیورسٹی کی ڈگریوں کی تصدیق، وفاقی اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا، الخیر یونیورسٹی کی ایچ ای سی سے ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے پر چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ الخیر یونیورسٹی سے منسلک کچھ ادارے بند کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم ہماری ہدایات کے باوجود وہاں داخلے جاری رکھے گئے۔